مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ جیسے ہی ایران اور صہیونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کی خبر سامنے آئی، انگریزی زبان صارفین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابق ٹویٹر ) پر بڑے پیمانے پر اس واقعے پر ردِعمل دیا۔ ان میں سے بہت سے افراد نے نہ صرف ایران کے مؤقف کی حمایت کی، بلکہ جنگ بندی کو ایران کی طاقت، دانائی اور خودمختاری کی علامت قرار دیا۔
کچھ صارفین نے اس کامیابی کو امریکہ اور صہیونی حکومت کی بالا دستی کے خلاف عالمی جدوجہد کا حصہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے ایرانی عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے دشمن کی پسپائی کو قومی اتحاد اور اسلامی جمہوری ایران کی دفاعی طاقت کا نتیجہ قرار دیا۔
جنگ بندی کی خبر کے بعد تہران میں رات کو منائے گئے جشن کی تصاویر اور ویڈیوز صارفین کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ایک صارف نے خبرگزاری مہر سے لائیو جشن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ایران ایک بڑی فتح کا جشن منا رہا ہے۔ ایرانی عوام خوشی سے سرشار ہیں اور جنگ میں اپنی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں، ما شاءاللہ! وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان مسلمانوں کو کامیابی عطا کی جو اس کی رہنمائی پر قائم رہے۔ اتحاد اور ایمان کامیابی کی کنجی ہیں۔

ایک اور صارف نے دو تصاویر ساتھ شیئر کیں: ایک ایران کے طاقتور میزائل حملوں کی اور دوسری عوامی جشن کی۔ اس نے لکھا کہ پورے ایران میں فتح کے عظیم جشن منائے جا رہے ہیں۔

ایک اور صارف نے ایرانی عوام کی خوشی کی تصویر کے ساتھ ٹرمپ کے اس پرانے جملے "بے قید و شرط تسلیم" کو روندتے ہوئے دکھایا اور اسے "ایرانی عوام کی ایک بڑی فتح کے بعد جشن" قرار دیا۔

ایک افریقی ایکس صارف نے خود کو "افریقہ کا فخر" قرار دیتے ہوئے کہا: ایران کی فتح، انسانیت کی فتح ہے۔

بہت سے صارفین نے تہران میں منعقدہ فتح کے جشن میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر سردار "اسماعیل قاآنی" کی موجودگی پر ردعمل ظاہر کیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ سپاہ پاسداران کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی زندہ اور سلامت ہیں۔ یہ حقیقت اسرائیل کے ان جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کرتی ہے جو اس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران پھیلائے تھے۔ وہ بیشتر افسران جن کے بارے میں اسرائیل نے ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، درحقیقت محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

ایک اور صارف نے ایرانی قوم کی "مضبوطی" اور "قربانی دینے کے جذبے" کو سراہتے ہوئے لکھا کہ میرا یقین ہے کہ شاید اسرائیل کسی امن معاہدے پر پہنچ سکتا تھا۔ ایرانی سخت جان لوگ ہیں، وہ جان دینے سے نہیں ڈرتے۔ اگرچہ یہ صلح مستقل نہ ہو، لیکن کم از کم کچھ وقت کے لیے خونریزی رک جائے گی۔

ایک صارف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن کا وہ بیان شیئر کیا جس میں وہ کہتے ہیں: نتن یاہو، تم نے کیسے یہ فیصلہ کیا کہ ایک ایسی چیز کا آغاز کرو جسے ختم کرنے کی صلاحیت تمہارے پاس نہیں تھی؟ تم جانتے تھے کہ تم اپنے لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ یہ کیسی قیادت ہے؟ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جتنا پروپیگنڈا کیا گیا تھا وہ سب کہاں گیا؟ یہ سب ایک رسوائی ہے اور جواب طلب ہے۔

امریکی میڈیا ایکٹوسٹ "جیکسن ہینکل" نے اس نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ "اسٹیو بینن نے اعتراف کیا کہ آتشبس اسرائیل کو بچانے کے لیے تھی؛ لکھا: دیکھا! کیوں نتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا؟ یہ آتشبس اسرائیل کو بچانے کے لیے تھی۔ اصل کہانی یہی ہے۔ انہوں نے اپنی طاقت سے زیادہ بڑھ کر قدم اٹھایا۔ اسرائیل، خاص طور پر تل ابیب اور بئرالسبع میں حالات بہت سنگین تھے۔

ایک اور صارف نے ایک کارٹون شیئر کیا جس میں نتن یاہو اور ٹرمپ کو آتشبس کے لیے رہبر انقلاب اسلامی سے مدد مانگتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس تصویر کا کیپشن تھا کہ آتشبس کی حقیقت۔
برطانوی لیبر پارٹی کے رہنما اور سات بار رکن پارلیمنٹ رہنے والے "جورج گیلوے" کی ایک پوسٹ بھی قابل توجہ تھی، جس میں کہا گیا: اسرائیل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پانچ قراردادوں کو مسترد کیا جن میں غزہ میں آتشبس کا مطالبہ کیا گیا تھا اور وہ فلسطین میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ پھر ایران کے ساتھ آتشبس پر کیوں رضامندی ظاہر کی؟
اس سوال کا جواب ڈاکٹر فؤاد ایزدی، تہران یونیورسٹی کے شعبہ عالمی مطالعات کے استاد نے صحافی "جرمی اسکیہیل" کے ساتھ گفتگو میں یوں دیا: فرق بیلسٹک میزائلوں کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام نہتے ہیں، وہاں خواتین اور بچوں کا قتل کوئی قیمت نہیں رکھتا، اس لیے وہ جاری ہے۔ لیکن ایران پر حملہ کرنا مہنگا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر ایزدی نے ساتھ ہی نتن یاہو کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد آتشبس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
آپ کا تبصرہ