امریکہ کی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ذریعہ اپنے اہداف تک پہنچنے کی کوشش

تہران یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر کا کہنا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ذریعہ اپنے اہداف تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بعض انسپکٹر اسرائیل کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔

مہرخبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں تہران یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن محمد صادق کوشکی نے کہا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ذریعہ اپنے اہداف تک پہنچنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے بعض انسپکٹر اسرائیل کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ کوشکی نے مہر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ذریعہ ایران پر دباؤ ڈآلنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ بین الاقوامی اداروں کو اپنے اہداف کے لئے بھر پور استعمال کرتا ہے۔ محمد صادق کوشکی نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ڈائریکٹر کے دورہ تہران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں ایران نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو بہت زيادہ امتیازات دیئے۔ جس کی وجہ سے امریکہ کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ذریعہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا مزید موقع مل گيا ۔

محمد صادق کوشکی نےمہر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے کو موجودہ صورت میں قبول کرنے سے امریکہ اور یورپ کو مزید امتیازات مل جائیں گے اور ایران اپنے مطالبات تک  نہیں پہنچ پائےگا جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچ جائيں گے۔

تہران یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ ریفائل گروسی کے دورہ اسرائیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران واحد ملک ہے جس نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی ایٹمی پروگرام کے بارے میں نگرانی اور نظارت کے سخت شرائط کو قبول کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے اپنے کسی بھی وعدے پر عمل نہیں کیا ہے اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی منصفانہ نگرانی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ گروسی اسرائیل کی خوشنودی کے خواہاں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی اسرائیل کے لئے کام کررہی ہے۔

محمد صادق کوشکی نے مہر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے پاس اہم اطلاعات اور معلومات ہیں ، بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے انسپکٹر اسرائیل کے جاسوس ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ایٹمی سائنسدانوں کو شہید کیا گیا اور ہمارے ایٹمی پروگرام پر اسرائيل نے متعدد بار حملہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایٹمی ایجنسی کے سابق انسپکٹرہانس بلیکس اس بات کااعتراف کرچکے ہیں کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے اسپکٹر بہترین صورتحال میں امریکی جاسوس ہیں اور بدترین صورتحال میں اسرائیل کے جاسوس ہیں۔

News Code 1911122

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha