ترکی کا فی الحال طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان

ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کی مالی امداد کرنے کو تیار ہے تاہم طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے آناتولی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اوغلو نے طالبان کے وزير خآرجہ ملا متقی کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ ترکی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کی مالی امداد کرنے کو تیار ہے تاہم طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے وزیر خارجہ ملا متقی وفد کے ہمراہ انقرہ پہنچے تھے جہاں اس نے ترک وزیر خارجہ سے ملاقات اور گفتگو کی۔ترک وزیر خارجہ چاوش اوغلو اور طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کے درمیان طویل ملاقات ہوئی جس کے دوران افغان عوام کو درپیش مسائل اور باہمی امور کی دلچسپی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ترکی کے وزیر خارجہ نے افغان وفد کو جنگ سے زخم خوردہ افغان عوام کی ہر طرح سے مدد اور ترقیاتی کاموں میں معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی قوتوں پر واضح کردیا ہے کہ افغانستان سے اچھے تعلقات سب کے حق میں بہتر ہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ افغان عوام کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی امداد اور ترقیاتی کاموں میں طالبان حکومت کی معاونت کا قطعی مطلب نہیں کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرلیا جائے۔ یہ الگ الگ چیزیں ہیں۔

News Code 1908522

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =