من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں اس کے علی(ع) مولا ہیں"

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : " خداوند عالم میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور میں ان سے زیادہ ان پر حق رکھتا ہوں ، پس جس کا میں مولاہوں اس کے یہ علی مولا ہیں ، اے اللہ اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اوراس کودشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے۔

مہرخبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : " ان اللہ مولای ، و انا مولی المومنین،و انا اولی بھم من انفسھم ، فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ، وعاد من عاداہ واحب من احبہ وابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ وخذل من خذلہ وادرالحق معہ حیث دار " ۔ خداوند عالم میرا سرپرست ہے اور میں مومنین کا سر پرست ہوں اور میں ان سے زیادہ ان پر حق رکھتا ہوں ، پس جس کا میں مولاہوں اس کے یہ علی مولا ہیں ، اے اللہ اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اوراس کودشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے۔ غدیر خم مکہ اورمدینہ کے درمیان، مکہ شہر سے تقریبا دوسو کلومیٹر کے فاصلے پر جحفہ کے پاس واقع ہے یہ ایک چوراہا ہے مختلف سرزمینوں سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام یہاں پہنچ کرایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں یہاں سے شمالی سمت کا راستہ مدینہ کی طرف ،جنوبی سمت کا راستہ یمن کی طرف ،مشرقی سمت کا راستہ عراق کی طرف اور مغربی سمت کا راستہ مصر کی طرف جاتا ہے آج کل یہ سرزمین بھلے ہی متروک ہو چکی ہو مگر ایک دن یہی سرزمین تاریخ اسلام کے ایک اہم واقعہ کی گواہ تھی اوریہ واقعہ اٹھارہ ذی الحجہ سن 10 ھجری کاہے جس دن حضرت علی علیہ السلام رسول اکرم کے جانشین کے منصب پر فائز ہوئے حدیث غدیر امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل ولایت و خلافت کے لئے ایک روشن دلیل ہے اور محققین اس حدیث کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں

غدیر خم میں پیغمبر اسلام نے اپنے یادگار خطبہ میں فرمایا :  حمد وثناء اللہ کی ذات سے مخصوص ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اسی پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں ہم برائی اور اپنے برے کاموں سے بچنے کے لئے اس کی پناہ چاہتے ہیں  وہ اللہ جس کے علاوہ کوئی دوسرا ہادی و راہنما نہیں ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ،اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے ہاں اے لوگو!وہ وقت قریب ہے کہ میں دعوت حق کو لبیک کہوں اور تمھارے درمیان سے چلا جاؤں تم بھی جواب دہ ہو اور میں بھی جواب دہ ہوں۔ آنحضور نے اس کے بعد فرمایا: میرے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے ؟کیا میں نے تمہارے متعلق اپنی ذمہ داری کو پوراکردیا ہے ؟یہ سن کر پورے مجمع نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمات کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے بہت کوششیں کیں اوراپنی ذمہ داری کو احسن طریقہ سے انجام دیا ہے، اللہ آپ کو اس کا اچھا اجر عطا فرمائے۔  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"  کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اس پوری دنیا کامعبود ایک ہے اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے اور جنت و جہنم وآخرت کی جاویدانی زندگی میں کوئی شک نہیں ہے ؟ سب نے کہا کہ صحیح ہے ہم گواہی دیتے ہیں " اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:" اے لوگو!میں تمھارے درمیان دو اہم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ،میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد میری ان دونوں یادگاروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور بلند آواز میں سوال کیا کہ ان دو اہم چیزوں سے کیا مراد ہے؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: ایک اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اللہ کے دست قدرت میں ہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں ،اور دوسرے میری عترت اور اہلبیت (‏ع) ہیں،اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ ہرگز ایک دوسرے جدا نہ ہوں گے  ہاں اے لوگوں ! قرآن اور میری عترت پر سبقت نہ کرنا ،اور دونوں کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہ کرنا ،ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی سب کو نظر آنے لگی،علی(ع) سے سب لوگوں کو متعارف کرایا اس کے بعد فرمایا: ” مومنین پر خود ان سے زیادہ سزوار کون ہے ؟“ سب نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول (ص) زیادہ جانتے ہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" اللہ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہوں"  ہاں اے لوگو!"من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ اللہم وال من والاہ، وعاد من عاداہ واحب من احبہ وابغض من ابغضہ وانصر من نصرہ وخذل من خذلہ وادر ا لحق معہ حیث دار " جس جس کا میں مولیٰ ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں ، اے اللہ اسکو دوست رکھ جو علی (ع)  کو دوست رکھے اوراس کودشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے ،اس سے محبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی (ع)  پر غضبناک ہو ،اس کی مدد کرجو علی کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کر ے اور حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی مڑیں ،  مبصرین کا خیال ہے کہ اگر مسلمان رسول خدا (ص) کی اس بات کو تسلیم کرلیتے اور حضرت علی (ع) کو پیغمبر اسلام کا جانشین اور خلیفہ مان لیتے تو امت پیغمبر اسلام (ص) تہتر فرقوں میں تقسیم نہ ہوتی ، لیکن پیغمبر (ص) کے اس فرمان کو سننے کے باوجود امت کے بزرگوں نے اس کو مختلف بہانوں کے ذریعہ نظر انداز کردیا اور خود پیغمبر اسلام (ع) کے جانشین بن گئے اور امت کو تہتر فرقوں میں بانٹ دیا ۔

تاریخ اسلام کے مطابق  سن ۱۰ هجری میں ۱۸ /ذی الحجہ کو حج کی واپسی پر " واقعہ غدیر"  پیش آیا اور تین دن تک غدیر خم میں ایک لاکھ چوبیس ہزار حاجیوں کا مجمع قیام پذیر رہا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ  نے سب سے طولانی خطبہ ارشاد فرمایا جو توحید ، ولایت اور امامت کے موضوعات پر مشتمل تھا ؛ اور جس میں آنحضور (ص) نے اپنے بعد حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور گیارہ ائمہ علیھم السلام  کو قیامت تک اپنا جانشین مقرر کیا۔

یہ دن محمد و آل محمد (علیھم السلام) کی سب بڑی عید کا دن شمار ہوتا ہے، اور اسی دن اللہ تعالی کے حکم سے  رسول کریم (ص) نےحضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کو بلافصل وصی اور خلیفہ کے عنوان سے پہچنوایا ۔(بحار الانوار، ج۳۵، ص ۱۵۰)

آنحضور (ص) کےخطبہ کا سب سے زیاد مشہور و معروف جملہ جس کو شیعہ اور سنی نے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے راویوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کی صحت میں ذرہ برابر بھی شک و تردید نہیں پایا جاتا، یہ ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“۔(جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں) لفظ مولا ،اگرچہ مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے لیکن اس حدیث شریف میں مسلم طور پر امت کی سرپرستی اور ولایت کے معنی میں استعمال ہوا ہےکیونکہ اس مقام پر مولا اسی معنی میں ہے جو پیغمبر اسلام (ص) کے لئے ہے۔ کیونکہ اس مطلب پر چند قرائن و شواہد موجود ہیں :۱۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کے اعلان سے پہلے لوگوں کو اپنی رحلت کے نزدیک ہونے کی خبر دی اور انہیں قرآن و عترت کی سفارش فرمائی اور اس بات پر تاکید کی کہ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے، اس کے بعد یہ اعلان فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مولا ہیں۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسے شخص کا تعارف کرانا چاہتے ہیں کہ امت پر قرآن کے ساتھ ساتھ اس کے دامن سے متمسک ہونا بھی واجب ہے تاکہ گمراھی اور ضلالت سے محفوظ رہ سکے۔

۲۔  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حکمت عملی کے پیش نظر یہ مناسب نہیں ہے کہ ہزاروں حاجیوں کو جلتے ہوئے صحرا میں روکے رکھیں اور حکم دیں کہ پتھروں اور اونٹوں کے کجاؤں کا منبر بنایا جائے۔۔۔ صرف اس وجہ سے کہ مسلمانوں کے سامنے یہ اعلان کریں کہ حضرت علی علیہ السلام تمھارے دوست اور ناصر ہیں! بلکہ مسلم طور پر ایک اہم موضوع درپیش تھا اور وہ پیغمبر اسلام کے بعد ولایت و امامت کا اہم موضوع  تھا۔

۳۔ خطیب بغدادی نے ابوہریرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ: جو شخص عید غدیر کے دن روزہ رکھے اس کے لئے ۶۰ مہینوں کے روزوں کا ثواب ہے، اور وہ دن عید غدیر کا دن ہے کہ جس روز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا: کیا میں مؤمنین کا ولی نہیں ہوں؟

لوگوں نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ!آپ ہمارے ولی ہیں۔

اس وقت آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“۔اس موقع پر عمر بن خطاب نے آگے بڑھ کر کہا: مبارک ہو ۔ اے علی بن ابی طالب! آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا بن گئے۔اس وقت خداوندعالم نے یہ آیت نازل فرمائی: الیوم اکملت لکم دینکم ۔ آج میں نے تمھارے دین کو کامل کردیا۔

لہذا مسلمانوں کا دین اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ حضرت علی علیہ السلام کے ولایت کا دل و جاں سے اقرار نہ کریں کیونکہ حضرت علی علیہ السلام ہی وہ عظیم ہستی ہیں جنھوں نے پیغمر اسلام کی حیات میں اور ان کی حیات طیبہ کے بعد دین اسلام کی حقیقی معنوں میں حفاظت کی اور ان کے بعد ان کے فرزندوں امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) نے دین اسلام کی حفاظت کی اور حضرت امام حسین (ع) کے بعد ان کے نو فرزندوں نے دین کو فروغ دیا اور ان کے نویں فرزند (عج) آج پردہ غیب میں دین کی نصرت اور یاری کے لئے اللہ تعالی کے حکم کے منتظر ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :بنی اسرائیل کے انبیاء جس دن اپنا جانشین معین فر ما تے تھے اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تھے ۔ "عید غدیر " بھی وہ دن ہے جس دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جا نشین معین فر ما یا ۔ یہ مسلمانوں کی عظیم عید کا دن ہے۔

News Code 1902130

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha