ہارون رشید نے حضرت امام موسی کاظم (ع) کو بغداد میں عمربھرقید میں رکھا

علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ اورہارون رشید نے حضرت امام موسی کاظم (ع) کو بغدادمیں عمربھرقید میں رکھا۔ بصرہ کے حاکم عیسی بن جعفر نے جب ہارون الرشید کی طرف سے امام علیہ السلام کو قتل کرنے کے خفیہ حکم پر عمل نہیں کیا تو ہارون الرشید نے یہ کام سندی بن شاہک کے حوالے کردیا ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ اورہارون رشید نے حضرت امام موسی کاظم (ع) کو بغدادمیں عمربھرقید میں رکھا۔ بصرہ کے حاکم عیسی بن جعفر نے جب ہارون الرشید کی طرف سے امام علیہ السلام کو قتل کرنے کے خفیہ حکم پر عمل نہیں کیا تو ہارون الرشید نے یہ کام سندی بن شاہک کے حوالے کردیا ۔

ہارون رشیدن نے امام موسی بن جعفر(ع) کو بصرہ میں ایک سال قید رکھنے کے بعدعیسی ابن جعفروالی بصرہ کو خظ لکھاکہ امام موسی کاظم کوقتل کرکے بادشاہ کوان کے وجودسے سکون دے دے تواس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کے بعدہارون رشیدکو جواب میں لکھاکہ اے بادشاہ امام موسی کاظم علیہ السلام میں، میں نے اس ایک سال کے عرصہ میں کوئی برائی نہیں دیکھی یہ شب وروزنماز اور روزہ میں مصروف ومشغول رہتے ہیں عوام اورحکومت کے لیے دعائے خیرکیاکرتے ہیں اورملک کی فلاح وبہبود کے متمنی ہیں بھلامجھ سے کیونکرہوسکتاہے کہ میں انہیں قتل کرکے اپنی عاقبت خراب کروں۔

 " اے بادشاہ ! میں ان کے قتل کرنے میں اپنے انجام اوراپنی عاقبت کی تباہی دیکھ رہاہوں اورسخت خوف محسوس کرتاہوں، لہذاتومجھے اس گناہ عظیم کے ارتکاب سے معاف کربلکہ مجھے حکم دیدے کہ میں انہیں قیدمشقت سے آزادکردوں اس خط کے پانے کے بعدہارون رشیدنے آخر میں یہ کام سندی بن شاہک کے حوالہ کیا اوراسی سے آپ کوزہردلواکرشہیدکرادیا ، زہرکھانے کے بعدآپ تین روزتک تڑپتے رہے، یہاں تک کہ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔(1)

علامہ جامی لکھتے ہیں کہ زہرکھاتے ہی آپ نے فرمایاکہ آج مجھے زہردیاگیا ہے کل میرابدن زردہوجائےگا اورتیسرے دن میرا بدن سیاہ ہوگا اور میں اسی دن اس دنیاسے رخصت ہوجاؤں گاچنانچہ ایساہی ہوا(2)

علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں کہ ہارون رشیدنے آپ کوبغدادمیں قیدکردیا ”فلم یخرج من حبسہ الامیتامقیدا“ اورتاحیات قید میں رکھا، آپ کی شہادت کے بعد ہتھکڑی اوربیڑی کٹوائی گئی آپ کی وفات ہارون رشیدکے زہرسے ہوئی جواس نے ابن شاہک کے ذریعہ سے دلوایا تھا جب آپ کوکھانے یاخرمہ میں زہردیاگیاتوآپ تین روزتک تڑپتے رہے یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔(3)

علامہ ابن الساعی علی بن انجب بغدادی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے انتہائی مظلومی کی حالت میں شہیدکردیاگیا۔(4)

علامہ جامی لکھتے ہیں کہ آپ کوہارون رشیدنے بغدادمیں لاکرتاعمرقیدرکھاآخرمیں اپنے وزیراعظم یحی برمکی کے ذریعہ سے قیدخانہ میں زہردلوادیااورآپ شہید ہوگئے۔(5)

علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ آپ کوکئی مرتبہ زہردیاگیالیکن آپ ہربارمحفوظ رہے ایک مرتبہ آپ نے وہ خرمہ اٹھاکرجس میں زہرتھا زمیں پرپھینک دیاجسے ہارون کے کتے نے کھالیااوروہ مرگیا کتے کے مرنے کی خبرسے ہارون رشیدکو شدید رنج ہوااوراس نے خادم سے سخت بازپرس کی۔(6) دنیاوی اقتدار کی خاطر بنی عباس نے بھی پیغمبر اسلام کی اولاد کے ساتھ وہی راستہ اختیار کیا جس کی داغ بیل بنی امیہ نے ڈالی تھی ۔ پیغمبر اسلام کے اہلبیت (ع) پر ظلم و ستم ڈھانے میں بنی امیہ اور بنی عباس نے ایک ہی جیسا کردار ادا کیا تاریخ میں جس کے واضح شواہد موجود ہیں۔ آچ جو دین شیعہ مسلمانوں کے پاس ہے وہ دین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لایا ہوا اور ان کے اہلبیت (ع) کا بچایا ہوادین ہے اور جو دین دیگر مسلمانوں کے پاس ہے وہ دین بنی امیہ اور بنی عباس کا بچایا ہوا دین ہے بنی امیہ کے دین میں شدت پسندی خشونت ، ظلم و قتل وغارت اور دہشت گردی جیسے عوامل شامل ہیں ، جبکہ محمد و آل محمد(ع) کے دین میں امن و سلامتی کے واضح اور اعلی نمونے موجود ہیں۔ امام کاظم (ع) نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے ساتھ عباسی حکومت کے خلاف جد و جہد بھی جاری رکھی۔ آپ نے بیس سال تک کی عمر اپنے والد ماجد حضرت امام صادق (ع) کے ساتھ گزاری اور امام صادق (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال تک مسلمانوں کی امامت و ہدایت کی فرائض انجام دیتے رہے ۔ آپ نے اس راہ میں بہت سی مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ (ع) کے علم سے فیضیاب ہونے والے بہت سے شاگردوں نے اسلامی علوم و تعلیمات کوپوری دنیا میں رائج کیا۔ جب حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نےفرائض امامت سنبھالے اس وقت عباسی خلیفہ منصوردوانقی بادشاہ تھا یہ وہی ظالم بادشاہ تھا جس کے ہاتھوں بے شمارسادات مظالم کا نشانہ بن چکے تھے سادات زندہ دیواروں میں چنوائے گئے یا قید کردیئے گئے تھے۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت باسعادت ۱۲۸ہجری قمری میں مدینہ کے قریب مقام " ابواء" میں  اور آپ  کی شہادت 25 رجب سنہ 183 ہجری قمری میں ہوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1) نورالابصار ص ۱۳۷) ۔

2) شواہدالنبوت ص ۱۹۳) ۔

3) صواعق محرقہ ۱۳۲،ارحج المطالب ص ۴۵۴)

4) اخبارالخلفاء)

5)  شواہدالنبوت ص ۱۹۳) ۔

6)  جلاء العیون ص ۲۷۶) ۔

News Code 1898752

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 16 =