نائجیریا کی حکومت نے شیخ زکزاکی کو مسموم کردیا/ شیخ کو قتل کرنے کی سازش

نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رکن ابراہیم سلیمان نے کہا ہے کہ نائجیریا کی حکومت نے اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ زکزاکی کوآزاد کرنے کے سلسلے میں عدالتی حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے شیخ زکزاکی کو مسموم کردیا ہے اور مطمئن ڈاکٹروں کو شیخ کے معائنہ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رکن ابراہیم سلیمان نے کہا ہے کہ نائجیریا کی حکومت نے ہوئے نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ  شیخ زکزاکی کوآزاد کرنے کے سلسلے میں عدالتی حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے شیخ زکزاکی کو مسموم کردیا ہے اور مطمئن ڈاکٹروں کو شیخ کے معائنہ کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ شیخ ابراہیم سلیمان نے مہر نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسمومیت کی  وجہ سے شیخ زکزاکی کی طبیعت بے حد خراب ہوگئی ہے اور نائجیریا کی حکومت شیخ زکزاکی کا علاج و معالجہ کرانے کے بجائے انھیں بتدریج قتل کرنے کی سازش کررہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق رائجیریا کے فوجی عناصر نے شیخ زکزاکی کو مسموم کیا ہے جس کے بعد نائجیریا کی اسلامی تحرک کے کارکنوں نے ابوجا کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اسلامی تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نائجیریا کی حکومت غیر قانونی اقدامات کے ذریعہ شیخ زکزاکی کے بیرون ملک علاج و معالجہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ ابراہیم سلیمان نے شیخ زکزاکی کو نائجیریا کی حکومت کے توسط شہید کرنے کے سوال کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ نائجیریا کی حکومت شیخ زکزاکی کو شہید کرنا چاہتی ہے کیونکہ حکومت کو ان کے علاج میں کوئی دلچسپی نہیں ہے  اور نہ ہی حکومت انھیں علاج کے لئے بیرون ملک بھیجنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیخ زکزاکی کو جن گولیوں سے نشانہ بنا کر زخمی کیا گیا تھا وہ گولیاں زہر آلود تھیں اور زہر شیخ کے بدن میں موجود ہے جو تدریجی طور پر شیخ کی شہادت کا سبب بن سکتا ہے۔

News Code 1891763

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 11 =