امریکی فوج ملا عمر کو قریب رہنے کے باوجود تلاش کرنے میں ناکام رہی، برطانوی اخبار

امریکی فوج افغان طالبان کے بانی اور سابق امیر ملاعمر کو ان کے اڈے کے قریب کئی برس تک رہائش کے باوجود تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی فوج افغان طالبان کے بانی اور سابق امیر ملاعمر کو ان کے اڈے کے قریب کئی برس تک رہائش کے باوجود تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی۔

یہ انکشاف برطانوی اخبار دی گارجین نے ڈچ صحافی کی کتاب کے حوالے سے کیا ہے۔ ملا عمر اپریل 2013 میں زابل میں انتقال کر گئے تھے۔ گارجین نے اپنی رپورٹ میں افغانستان سے رپورٹنگ کرنے والے ڈچ صحافی اور مصنف بیٹ ڈیم کی کتاب سرچنگ فار اینمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملاعمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر رکھی گئی تھی اور وہ افغانستان میں امریکی اڈے سے چند فرلانگ دور رہائش پذیر تھے۔ صحافی نے اس سوانح میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ایک مرتبہ ان کے گھر میں کارروائی کی تھی لیکن وہ ملا عمر کے لیے تعمیر کیے گئے خفیہ کمرے کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ برطانوی اخبار نے نئی کتاب میں ہونے والے انکشافات کو امریکی خفیہ ایجنسیوں کی شرم ناک ناکامی قرار دیا ہے کیونکہ امریکہ میں نائن الیون کے بعد ملاعمر کے سرکی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کی گئی تھی اور وہ افغانستان میں امریکی اڈے سے چند فرلانگ دور رہائش پذیر تھے۔

News Code 1888751

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha