مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نائیجیریا میں صدارتی اور عام انتخابات کے دوسرے روز بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے تاہم اس دوران پُر تشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ نائیجیریا کی تمام ریاستوں میں حالات کنٹرول میں ہیں اور انتخابی کے عمل کے دوران امن عامہ کی صورت حال کافی بہتر رہی تاہم اس دوران 128 شر پسندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ نائیجیریا میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں 73 امیدواروں میں سے کانٹے دار مقابلہ موجودہ صدر 76 سالہ محمد ابوبخاری اور 72 سالہ سابق نائب صدر عتیق ابوبکر کے درمیان ہے اور دونوں ہی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں جب کہ ابھی کئی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ نائیجیریا میں کئی شدت پسند جماعتیں اور جرائم پیشہ گروہ متحرک ہیں، آئے دن ہونے والوں جھڑپوں کے باعث امن و امان کی صورت حال نہایت مخدوش ہے تاہم کئی بار ملتوی ہونے والے صدارتی اور عام انتخابات کا انعقاد بالآخر 23 فروری کو ممکن ہوگیا۔
نائیجیریا میں صدارتی اور عام انتخابات کے دوسرے روز بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے تاہم اس دوران پُر تشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 39 ہوگئی ہے۔
News ID 1888377
آپ کا تبصرہ