قزاقستان میں ایران اور ترکی کے صدور کی ملاقات/میانمار ، دہشت گردی اور اقتصادی تعلقات پر گفتگو

خبر آئی ڈی: 4082721 -
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی اسلامی تعاون تنظیم کے سائنس و ٹیکنالوجی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے قزاقستان کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والےمظالم کی روک تھام ، دہشت گردی کے خاتمہ اور باہمی اقتصادی تعاون کے سلسلے میں گفتگو اورصلاح و مشورہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی،  اسلامی تعاون تنظیم کے سائنس و ٹیکنالوجی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے قزاقستان کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والےمظالم کی روک تھام ، دہشت گردی کے خاتمہ اور باہمی اقتصادی تعاون کے سلسلے میں گفتگو اورصلاح و مشورہ کیا ہے۔

اس ملاقات میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی اقتصادی تعلقات کے فروغ کو اہم قراردیتے ہوئے بینکی امور میں سہولیات فراہم کرنے پر تاکید کی ۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران اور ترکی عالم اسلام کے دو اہم اور بڑے ممالک ہیں اور عالم اسلام کو در پیش مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والے بھیانک مظالم میں بھی وہی سامراجی طاقتیں ملوث ہیں جو فلسطینی مسلمانوں پروحشیانہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔

صدر ححسن روحانی نے کہا دہشت گردی کی پشت پر بھی امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں دہشت گردی کی کسی صورت میں اجازت نہیں ہے تو پھر دہشت گرد کہاں سے آئے ہیں؟۔

صدر حسن روحانی نے اسلامی ممالک میں جاری دہشت گردی کے خاتمہ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام بد نظمی کے خلاف ہے اور کسی بھی ملک کے نظم و نسق میں اسلام کے نام پر خلل ایجاد کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

صدر روحانی نے شام میں روس ترکی اور ایران کے اتحاد کو اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ شام میں عنقریب  امن و صلح برقرار ہوجائے گی اور شامی عوام امن و صلح کے سائے میں زندگی بسر کریں گے۔

صدر حسن روحانی نے میانمارمیں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے انسان سوزمظالم کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک کو باہمی تعاون اور ہمفکری کے ساتھ ستمدیدہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا دفاع کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ میانمار کی حکومت پر عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ قائم کرکےاسے انسانی حقوق کے احترام کا پابند بنانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد تنظیموں نے اس مسئلہ میں مداخلت کی تو اس سے میانمار کی حکومت کو مسلمانوں کے قتل عام کا مزید بہانہ مل جائے گا لہذآ مسلم ممالک کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے اور دہشت گرد گروہوں کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

ترک صدر نے اس ملاقات کو بہت ہی مفید قراردیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں فروغ بہت ضروری ہے ترک صدر نے میانمار کے مسلمانوں کو امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں  ایران اور ترکی کے مشترکہ اقدام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی میانمار کے مسلمانوں کی مدد میں مشترکہ طور پر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اردوغان نے کہا کہ میانمار کی حکومت کو مسلمانوں کے خلاف مظالم کو فوری طور پر بند کرنا چاہیے ورنہ اس کے سنگين نتائج برآمد ہوں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

1 + 1 =