چین کا سمندر کی لہروں پر تیرنے والے ایٹمی پلانٹ بنانے کا اعلان

بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیرے تعمیر کرنے کے بعد اب ان جزیروں کو توانائی فراہم کرنے کے لئے چین نے سمندر کی لہروں پر تیرنے والے ایٹمی پلانٹ بھی بنانے شروع کر دئیے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیرے تعمیر کرنے کے بعد اب ان جزیروں کو توانائی فراہم کرنے کے لئے چین نے سمندر کی لہروں پر تیرنے والے ایٹمی پلانٹ بھی بنانے شروع کر دئیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق چین تیرنے والے 20 نیوکلیئر پاور پلانٹ بنائے گا، جو بحیرہ جنوبی چین میں بہت بڑے بحری جہازوں کی طرح تیرتے رہیں گے، اور انہیں بوقت ضرورت کہیں بھی لیجایا جاسکے گا۔ بحیرہ جنوبی چین کے مصنوعی جزیروں کے علاوہ انہیں مستقبل میں سمندر میں تیل کے کنوﺅں پر جاری کام کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ چین کے پانچ سالہ منصوبے کے تحت جنوری میں اعلان کیا گیا تھا کہ پہلا تیرنے والا پاور پلانٹ 2020ءتک تیار ہو جائے گا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین متنازع سمندر میں پہلے ہی تین ہزار ایکڑ پرمشتمل مصنوعی جزیرے تعمیر کرچکا ہے۔ اب یہاں نیوکلیئر توانائی پیدا کرنے والے تیرتے ہوئے پلانٹس کی موجودگی سے اس علاقے پر چین کا قبضہ مزید مستحکم ہوجائے گا۔ اسی صورتحال کے پیش نظر امریکہ اور اس کے اتحادی سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ امریکی ماہرین چین کے تیرتے نیوکلیئر پلانٹس کے منصوبے کو غیر محفوظ اور خطرناک قرار دے رہے ہیں، اور چین کی اس پیش رفت کو روکنے کے لئے کوشاں ہیں۔

News Code 1863589

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =