ہنگری میں خاتون صحافی کو پناہ گزینوں کے ساتھ بدتمیزی مہنگی پڑ گئی

ہنگری میں ایک خاتون صحافی کو پناہ گزینوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے جب کہ سوشل میڈیا سمیت دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں خاتون کے طرز عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ہنگری میں ایک خاتون صحافی کو پناہ گزینوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے جب کہ سوشل میڈیا سمیت دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں خاتون کے طرز عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہنگری کے مقامی نیوز چینل کی ایک صحافی پیٹرا لاسزلو سربیا کی سرحد پر واقع پناہ گزینوں کے کیمپ میں دیگر صحافیوں کے ساتھ موجود تھی کہ اس دوران پناہ گزین بارڈر پولیس کا حصار توڑ کر ہنگری میں داخل ہونے لگے جب کہ پولیس انہیں روکنے کی کوشش کررہی تھی اس دوران پیٹرا نے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے پناہ گزینوں سے انتہائی تضحیک آمیز سلوک کیا۔

انٹرنیٹ پر چلنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پیٹرا نے ایک پناہ گزین کو جان بوجھ کر لات مارکر گرادیا جو اپنے بچے کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا جب کہ ایک اور جگہ اس نے ایک چھوٹی بچی کو بھاگتے ہوئے زور دار لات ماری جس کی وجہ سے وہ بچی بری طرح لڑکھڑا گئی۔واقعہ کی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد خاتون کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے جب کہ دنیا بھرکے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر پناہ گزینوں کے ساتھ اس رویے کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔ خاتون  کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ہنگری کی قوم پرست جماعت جابلک پارٹی سے تعلق رکھتی ہے جو کہ ملک میں پناہ گزینوں کی آمد کے سخت کے خلاف ہے۔

News Code 1858031

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 4 =