مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایمنسٹی انٹرنیشنل اسرائیل کو فرانس کی جانب سے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی برآمدات میں اضافے پر پیرس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے فرانسیسی شعبے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں فرانس کی وزارت دفاع کے ان اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے جو رواں موسم گرما میں پارلیمان کو پیش کیے گئے تھے۔
تنظیم نے کہا کہ غزہ میں گزشتہ تین سال سے جاری نسل کشی کے تسلسل کی ایک وجہ اسرائیل کی دوسرے ممالک، بشمول فرانس، کی حمایت ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، فوجی برآمدات کے یہ اعداد و شمار ان فرانسیسی حکام کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتے جو کہتے ہیں کہ اسرائیل کو کوئی ہتھیار فروخت نہیں کیے گئے اور فرانس فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
تنظیم نے فرانسیسی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاونت اور شراکت داری سے گریز کریں۔ تنظیم نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل کو مبینہ طور پر حاصل استثنیٰ کے باوجود اسے فوجی سازوسامان کی فراہمی اور اس کے ساتھ تجارت کیوں جاری ہے؟
اس سلسلے میں فرانسیسی مزدور یونینوں سی جی ٹی اور سولیدیر کی مقامی شاخوں نے ہوائی اڈوں سے وابستہ بعض دیگر یونینوں کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا کہ ایک اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی کی ملکیت مشینی پرزوں کی کھیپ جمعرات کی صبح ایئر فرانس کی پرواز AF966 کے ذریعے پیرس کے شارل ڈیگال ہوائی اڈے سے تل ابیب منتقل کی جانی تھی۔
آپ کا تبصرہ