مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی حکومت کی سیاسی صورتحال پر بڑھتی ہوئی ناراضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو محسوس ہوتا ہے کہ حالیہ تنقید اور ناکامیوں کے مقابلے میں ان کے سیاسی اتحادی ان کی حکومت کی کارکردگی کا مؤثر دفاع نہیں کر رہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اپنی سیاسی اور قانونی ناکامیوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ ناراض اور مایوس ہیں اور ان کا خیال ہے کہ بہت کم اتحادی کھل کر ان کی دوسری صدارتی مدت کی کارکردگی کا دفاع کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ بااثر شخصیات نے کینیڈی سینٹر کی تعمیر نو اور اس کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا نہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی یہ ناراضی اس وقت مزید بڑھی جب انہیں اپنی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں منفی ٹی وی کوریج کی تصاویر دکھائی گئیں۔ اس کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے ایم ایس ناؤ، سی این این اور سیاسی خبریں دینے والی ویب سائٹ پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا۔
رپورٹ میں ٹرمپ کے اس طرز عمل کو ان کی حکومت کے لیے پیدا ہونے والی مشکل سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی صدر اپنی حکومت کی کامیابیوں کو نمایاں کرنے اور ریپبلکن پارٹی کے ارکان و دیگر سیاسی اتحادیوں سے مزید حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کو اپنی مقبولیت میں کمی، وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی سے متعلق خدشات، ایران کے ساتھ جنگ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے پر ووٹرز کی ناراضی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ خارجہ پالیسی کے میدان میں ایسی کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جنہیں حکومت کی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ