مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بیلجیم کے صوبائی حکام نے اسکولوں میں مذہبی علامات کے استعمال پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے الزام میں ایک خاتون ٹیچر کو ملازمت سے برطرف کردیا۔
آسنِدے شہر کے ایک خصوصی اسکول میں تدریس سے وابستہ خدیجہ امجود 2022 سے حجاب کے ساتھ تدریس کر رہی تھیں۔ تاہم، جب انہوں نے دوران تدریس حجاب اتارنے سے انکار کیا تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی گئی اور بالآخر انہیں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
ٹریڈ یونین نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو برسلز کی اپیل عدالت میں چیلنج کرے گی۔ یونین کے مطابق یہ مقدمہ مذہبی آزادی اور تعلیمی اداروں میں غیر جانب داری کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔
امجود نے صوبائی حکومت کی جانب سے غیر جانب داری کی تشریح کو مکمل طور پر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر استاد اپنی ذاتی عقائد کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوتا ہے۔
بیلجیم میں رواں تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ ہونے والے ضوابط کے تحت صوبائی اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کے لیے ایسے علامات، نشانات یا لباس کے استعمال پر پابندی عائد ہے جو سیاسی یا مذہبی عقائد کا اظہار کرتے ہوں۔
بیلجیم کی کونسل آف اسٹیٹ نے بھی مئی میں چھ طلبہ اور متعدد تنظیموں کی جانب سے ان ضوابط کے خلاف دائر درخواست مسترد کردی تھی۔
آپ کا تبصرہ