مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے مقدس شہر نجف اشرف اور کربلائے معلی میں شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کی تشییع اور وداع کی تاریخی تقریبات کے سلسلے میں غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ عظیم الشان مراسم نجف اشرف میں باضابطہ طور پر شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نجف، کربلا اور عراق کے مختلف صوبوں کی فضا اس تاریخی موقع کے باعث سوگوار ہے۔ عوام اور عراقی خدمت گزاروں نے کروڑوں زائرین کی میزبانی کے اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر تشییع کے شایانِ شان انتظامات مکمل کیے ہیں۔
تشییعی جلوس کا راستہ پل صدر اسپتال سے میدان صدرین تک مقرر کیا گیا ہے، جبکہ منتظمین نے تمام عزاداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مراسم میں شریک ہوں۔
منتظمہ کمیٹی نے شہریوں اور ذرائع ابلاغ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ صرف سرکاری اور مستند اعلانات پر اعتماد کریں اور غیر مصدقہ اطلاعات سے گریز کریں۔
نجف اشرف میں شہید ایران کے جنازے میں عراقی عوام کا لاکھوں کا اجتماع
عراق کے مختلف شہروں سے آنے والے لاکھوں عزادار نجف اشرف میں شہید رہبر انقلاب اسلامی کی تشییع میں شریک ہوئے۔ شرکاء نے پلِ کوفہ سے روضۂ مبارک حضرت امام علیؑ کی جانب پیدل مارچ کیا۔
تقریب سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نجف اشرف کی سڑکیں انسانوں کے سمندر میں تبدیل ہوچکی ہیں اور ہر طرف عقیدت مندوں کا غیر معمولی ہجوم موجود ہے۔
عالمی استکبار کے خلاف گونجتے نعرے
تشییع میں شریک عظیم الشان اجتماع نے امریکہ اور عالمی استکبار کے خلاف بھرپور نعرے لگائے اور اپنی نفرت و بیزاری کا اظہار کیا۔ عزاداروں نے "اللہ اکبر" اور "شیطانِ بزرگ مردہ باد" کے فلک شگاف نعروں کے ذریعے استکبار مخالف جذبے کا اظہار کیا۔
اسی دوران جب شہید رہبر کے اہلِ خانہ کے پاکیزہ اجساد روضۂ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ میں داخل ہوئے تو لاکھوں سوگواروں نے "لبیک یا علیؑ" کے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا۔
نجف اشرف، جہاں عقیدت مندوں کا سمندر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا
نجف اشرف سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عاشقان شہید امام اور عزاداروں کی بہت بڑی تعداد شہر کی سڑکوں پر موجود ہے، جہاں دور دور تک انسانوں کا ہجوم نظر آتا ہے اور عقیدت و محبت کی ایک منفرد فضا قائم ہے۔
آپ کا تبصرہ