مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کو عسکری میدان میں ناکامی کے بعد مذاکرات کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔
محمد باقر قالیباف نے یہ بات ترکمانستان کے ہم منصب قربان گلی بردی محمدوف سے تہران میں ملاقات کے دوران کہی۔ بردی محمدوف رہبر شہید انقلاب اسلامی کی تشییع کی تقریبات میں شرکت کے لیے ایران پہنچے ہیں۔
قالیباف نے ایران پر حالیہ مسلط کی گئی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی ثابت قدمی، رہبر انقلاب کی مدبرانہ قیادت اور مسلح افواج کی مؤثر کارکردگی نے امریکہ کو عسکری محاذ پر ناکامی سے دوچار کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہی عوامل کے باعث امریکہ کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا پڑا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مطالبات قبول کرنے پر مجبور ہوا۔
آپ کا تبصرہ