مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرجع تقلید آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں کہا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں قومی طاقت اور اقتدار کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ حکومت کو بازار اور قیمتوں پر مؤثر کنٹرول بھی یقینی بنانا چاہیے۔
اتوار کو ہونے والی ملاقات میں آیت اللہ مکارم شیرازی نے صدر کی جانب سے ملک کی صورتحال پر دی گئی بریفنگ اور حوصلہ افزا رپورٹس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملکی مسائل کے حل کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا اور ان کے تسلسل پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کے سامنے کسی بھی قسم کی کمزوری اسے مزید جرات مند بنا دیتی ہے، جبکہ ذمہ داران جتنا زیادہ مضبوط مؤقف اختیار کریں گے، دشمن اتنا ہی کمزور ہوگا۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے عوام کے صبر و استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شدید مشکلات کے باوجود ایرانی عوام نے بے مثال ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی دنیا میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی قربانیوں کا اعتراف صرف زبانی نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بھی کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے حکومت اور رہبری کے درمیان مکمل ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جتنا زیادہ اتحاد اور قربت ہوگی، عوام کا اعتماد، اطمینان اور حوصلہ بھی اتنا ہی بڑھے گا۔
مرجع تقلید نے حکومت پر زور دیا کہ بازار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر سخت نگرانی کی جائے تاکہ منافع خور عناصر عوام کا استحصال نہ کر سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومتی اقدامات کے تسلسل سے عوام کو معاشی ریلیف ملے گا اور اس کے مثبت اثرات ان کی روزمرہ زندگی میں نظر آئیں گے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے ثقافتی امور کو بھی خصوصی اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی شناخت صرف جمہوری نہیں بلکہ اسلامی بھی ہے، اس لیے ثقافتی اقدار کو ترجیح دی جائے اور حجاب سمیت دینی تعلیمات کو ابتدائی عمر ہی سے تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے آخر میں عوامی مسائل، بالخصوص نوجوانوں کے معاشی اور سماجی چیلنجز کے حل کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی خدمت اور ان کے صبر و استقامت کا عملی اعتراف قومی یکجہتی اور ملکی ترقی کو مزید مضبوط بنائے گا۔
آپ کا تبصرہ