مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمان میں وفاداری برائے مزاحمت بلاک کے رکن حسن فضل اللہ نے واشنگٹن میں لبنانی حکومت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان دستخط ہونے والے فریم ورک معاہدے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری سیاسی اور سکیورٹی مذاکرات کا موجودہ راستہ لبنان کی خودمختاری کو کمزور کر رہا ہے اور ملک کے اندر خطرناک اختلافات کو جنم دے سکتا ہے۔
حسن فضل اللہ نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات اور عوام کے خلاف کیے گئے تمام فیصلے واپس لے، کیونکہ موجودہ طرز عمل مسلسل یک طرفہ رعایتوں اور پسپائی کا سلسلہ ہے، جو ملک کو تباہی کی طرف لے جائے گا اور صرف دشمن کے مفادات کو تقویت دے گا۔
انہوں نے ان خبروں کی بھی سختی سے تردید کی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ لبنان کے مذاکراتی مؤقف کی تیاری حسن فضل اللہ، میجر جنرل حسن شقیر اور بریگیڈیئر اندریہ رحال کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں کی گئی۔ ان کے مطابق یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، جبکہ حزب اللہ کا مؤقف ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی مخالفت پر مبنی رہا ہے۔
حسن فضل اللہ نے مزید کہا کہ موجودہ لبنانی حکومت قانونی جواز سے محروم ہے اور واشنگٹن میں طے پانے والے معاہدے پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں کروا سکتی جب تک وہ امریکی حمایت سے داخلی جنگ کا راستہ اختیار نہ کرے۔ حکومت نے اسرائیل کو ایک ایسا تحفہ پیش کیا ہے جس کا عملی طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ