مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ معاہدۂ طائف اور لبنان کے آئین کی حمایت کرتی ہے اور مختلف جماعتوں کے ساتھ اس کے تعلقات کا تجربہ ملک کے اہم ترین سیاسی تجربات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت اپنی تاریخ، مزاحمت، فوج اور مستقبل کے حوالے سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب اسرائیلی منصوبے کو ناکام بنانے کا دور شروع ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین برسوں میں اسرائیل نے بھرپور کوشش کی، لیکن آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں اس کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد حزب اللہ کو عسکری، سیاسی، ثقافتی، سماجی اور افرادی قوت کے اعتبار سے ختم کرنا تھا تاکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے، مگر وہ اس میں ناکام رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر شہید سید حسن نصر اللہ، دیگر شہداء، زخمیوں، قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی قربانیاں نہ ہوتیں تو یہ اسرائیلی منصوبہ کبھی نہ رکتا۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل میدان جنگ میں دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گا، خواہ جنگ طویل ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سرزمین کی آزادی، خودمختاری اور قومی اقتدار کے حصول کا واحد راستہ مزاحمت ہے، اور مزاحمت صرف ہماری نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ذمہ داری ہے جو قابض قوت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی فوج، عوام، مزاحمت اور تمام قومی قوتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
شیخ نعیم قاسم نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں، اس لیے امریکہ کسی بھی صورت ضامن نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی اصل طاقت ایمان، ارادے اور مزاحمت میں ہے۔ ان کے بقول 15 ماہ تک صبر کرنا بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ تھا، جسے کمزوری یا پسپائی نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مناسب وقت آنے پر 2 مارچ کو واضح اور مضبوط فیصلے کے ساتھ مزاحمت نے عملی کارروائی شروع کی۔
شیخ نعیم قاسم نے ایران کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کی حمایت اور پشت پناہی کے ساتھ جنگ میں داخل ہوئے، جس سے ہماری طاقت میں اضافہ ہوا۔ ہم ایران کے شکر گزار ہیں اور انہیں دنیا کی باوقار ترین قوم قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں جنگ بندی قائم ہو چکی ہے اور اس کے بعد اسرائیل کو لبنان سے انخلا کرنا ہوگا۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل کے پاس لبنان کی سرزمین سے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ کسی بھی بہانے سے اسے لبنان کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ زمینی، فضائی اور بحری جارحیت کا خاتمہ ہونا چاہیے اور لبنانی فوج کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہییں۔
آخر میں انہوں نے لبنانی حکام سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ مزاحمت کی طاقت سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ حزب اللہ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔
آپ کا تبصرہ