مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بدھ کے روز اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی تازہ صورتحال اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات سے روسی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کی جارحیت کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے اپنے ملک کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس مفاہمت کی حمایت کریں۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔
گفتگو میں ایران اور روس کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق متعدد دیگر امور بھی زیر بحث آئے، جن پر دونوں فریقوں نے جلد از جلد عملی پیش رفت اور مشترکہ طور پر عمل درآمد کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
آپ کا تبصرہ