21 مئی، 2026، 10:34 AM

گرین لینڈ میں امریکی عسکری موجودگی بڑھانے کا وقت آگیا ہے، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کا مطالبہ

گرین لینڈ میں امریکی عسکری موجودگی بڑھانے کا وقت آگیا ہے، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کا مطالبہ

گرین لینڈ کے دورے کے موقع پر جیف لینڈری نے کہا کہ امریکا کو اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ بحال کرنا ہوگا، بصورت دیگر چین یا روس یہاں قابض ہوسکتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گرین لینڈ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی جیف لینڈری نے اس اسٹریٹجک جزیرے کے اپنے پہلے سرکاری دورے کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ گرین لینڈ میں امریکا اپنی عسکری موجودگی کو نہ صرف دوبارہ مستحکم کرے بلکہ اسے تقویت بھی دے۔

تفصیلات کے مطابق، جیف لینڈری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ گرین لینڈ خطے میں امریکا کے مفادات کے لیے انتہائی اہم ہے اور واشنگٹن کو یہاں اپنی پوزیشن دوبارہ مضبوط بنانی چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دے چکے ہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اگر امریکا نے یہاں کنٹرول حاصل نہ کیا تو یہ علاقہ چین یا روس کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

عسکری ماہرین کے مطابق، گرین لینڈ کی اہمیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ روس کی جانب سے امریکا پر داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے لیے یہ سب سے مختصر فضائی راستہ ہے۔

یاد رہے کہ سرد جنگ کے دوران امریکا کے پاس گرین لینڈ میں 17 فوجی تنصیبات تھیں، جنہیں وقت کے ساتھ ساتھ بند کر دیا گیا تھا۔ اس وقت امریکا صرف شمالی گرین لینڈ میں ’پیتوفک‘ (Pituffik) اسپیس بیس کو کنٹرول کرتا ہے، جو پہلے ’تھولے ایئر بیس‘ (Thule Air Base) کے نام سے معروف تھا۔ یہ بیس قطب شمالی میں امریکا کے دفاعی مفادات کا اہم ترین مرکز ہے، جس کا بنیادی کام براعظموں کے درمیان مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں (ICBMs) کو ٹریک کرنا اور امریکی خلائی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکا اب جزیرے کے جنوبی حصے میں مزید تین نئے فوجی اڈے قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

دوسری جانب، جیف لینڈری کے ان عزائم پر گرین لینڈ کی مقامی حکومت کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ جزیرہ فروشی کے لیے نہیں ہے اور یہاں کے عوام ہی اپنے مستقبل کے فیصلے کا واحد حق رکھتے ہیں۔

News ID 1939373

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha