مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کے سرکاری نشریاتی ادارے "کان" نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کی پابندی کرے گا، تاہم اسرائیل اس فیصلے سے حیران رہ گیا کیونکہ اسے اس بارے میں آخری لمحات میں آگاہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور مقاومتی محاذ کے ممکنہ ردِعمل کے خدشے کے باعث پسپائی اختیار کرتے ہوئے دو ہفتوں کی جنگ بندی سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے بمباری روکنے پر آمادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایک پیغام میں لکھا کہ انہیں ایران کی جانب سے دس نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے اور ان کے خیال میں یہ مذاکرات کے لیے ایک قابل اعتماد بنیاد بن سکتی ہے۔
ان اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیے گئے دس نکاتی منصوبے میں یہ شرائط شامل ہیں کہ ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت دی جائے، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے، ایران کے جوہری پروگرام کو تسلیم کیا جائے، اور ایران پر عائد تمام ابتدائی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جوہری توانائی ایجنسی کے تمام قراردادوں کے خاتمے، ایران کو جنگی نقصانات کا ازالہ ادا کرنے، خطے سے امریکی جنگی افواج کے انخلا اور لبنان کی اسلامی مزاحمت سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے کی شرائط بھی شامل ہیں۔
ایران نے انہی دس نکات کی بنیاد پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
صہیونی چینل "کان" نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل اس مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں تھا اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو قائل کیا کہ وہ جنگ بندی کو قبول کریں۔
آپ کا تبصرہ