مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور صہیونی جارحیت کے جواب میں ایران کے دندان شکن جوابی کارروائیوں کے بعد صدر ٹرمپ ایران کی شرائط کے تحت دو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ کے اس فیصلے کو ایران کی بڑی فتح قرار دیا جارہا ہے۔
امریکی سیاسی تجزیہ کار رابرٹ پیپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والا دو ہفتے کی جنگ بندی کا معاہدہ امریکہ کے لیے ایک بڑی اور اسٹریٹجک شکست ہے۔ یہ ناکامی ویتنام جنگ کے بعد سب سے بڑی پسپائی سمجھی جا سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو میں سیاسیات کے پروفیسر اور مرکز شکاگو برائے سیکیورٹی اینڈ تھریٹس کے بانی نے مزید کہا ہے کہ اس معاہدے نے ایران کی پوزیشن کو دنیا کی چوتھے دفاعی قدرت کے طور پر مضبوط کردیا ہے۔
رابرت پیپ کے مطابق ان شرائط سے بین الاقوامی طاقت کے توازن میں ایک بنیادی تبدیلی ایران کے حق میں وقوع پذیر ہورہی ہے۔
آپ کا تبصرہ