مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبنزیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کی گئی قرارداد غیر متوازن تھی، اسی لیے روس نے چین کے ساتھ مل کر اسے ویٹو کیا۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے کہا کہ تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے روس ایران پر امریکہ کے حملے کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی میں موجودہ بحران کی بنیادی وجہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور یہ وجہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جارحانہ کارروائیاں ہیں۔
روسی مندوب کے مطابق آبنائے ہرمز کے بارے میں پیش کردہ قرارداد میں کئی نکات غیر متوازن تھے، اسی لیے روس اور چین ایک ایسا مسودہ پیش کرنے کی تجویز دے رہے ہیں جس میں سمندری راستوں کے تحفظ اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کو شامل کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سلامتی کونسل میں بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، روس اور چین نے ویٹو کر دی تھی۔ ووٹنگ کے دوران 11 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ کولمبیا اور پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ لیتے ہوئے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قرارداد خلیج فارس کے عرب ممالک کی ابتدائی تجویز کا نسبتا نرم مسودہ تھی، جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی بات کی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے تبدیل کر کے محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی اور ہم آہنگ اقدامات تک محدود کردیا گیا تھا۔
آپ کا تبصرہ