مہر خبر رساں ایجنسی کے مطابق، گزشتہ روز آبنائے ہرمز مکمل طور پر خاموش رہا اور پہلی بار جنگ کے آغاز کے بعد سے کوئی بھی آئل ٹینکر اس سے نہیں گزرا۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے ڈیٹا کے مطابق، گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے کوئی آئل ٹینکر نہیں گزرا۔ یہ گزشتہ روز تین آئل ٹینکرز کے گزرنے کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
جنگ سے قبل کے ایام میں روزانہ تقریباً 65 آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے۔
تیل کی صنعت کے ایک سینئر عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ ہم آبنائے ہرمز کی بتدریج بندش دیکھ رہے ہیں اور جہازوں کی آمدورفت انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
یہ غیر معمولی صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب جنگ کے آغاز کے بعد متعدد انشورنس کمپنیوں نے اپنی سمندری کوریج منسوخ کر دی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کی فراہمی میں عالمی بحران پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ