مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی پٹی میں بے مثال تباہی کے پس منظر میں اسرائیلی حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب امریکی صدر کی مجوزہ غزہ پیس کونسل کو کوئی مالی تعاون فراہم نہیں کرے گا۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ تل ابیب نے ڈونلڈ ٹرمپ کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ وہ ان کی سربراہی میں قائم ہونے والی صلح کونسل کو کوئی رقم ادا نہیں کرے گا۔
رپورٹس کے مطابق متعدد ممالک، خصوصا یورپی ریاستیں اس مجوزہ کونسل میں شمولیت پر تحفظات ظاہر کرچکی ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ مستقل نشستوں کے حصول کے لیے رکن ممالک کو خطیر رقوم ادا کرنا ہوں گی، جبکہ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ بعض ممالک غزہ کی انسانی امداد اور تعمیر نو کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زائد فراہم کرنے پر آمادہ ہیں۔
مبصرین کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی کردار کے باعث اس کونسل کی ساکھ پہلے ہی سوالات کی زد میں ہے۔ مذکورہ بیان نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کونسل کی بنیاد ہی مالی ادائیگی اور سیاسی وابستگی پر رکھی گئی تو اسے حقیقی امن کوشش کے بجائے ایک سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ