مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی 353 نمایاں سیاسی شخصیات اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی سخت مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ جنگ خطے میں بحرانوں کو مزید گہرا اور استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔
“ایران کے خلاف جنگ اور جارحیت نہیں” کے عنوان سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ اور تشدد سیاست کی بدترین برائیاں ہیں، کیونکہ جنگ انسانی جانیں لیتی ہے، تباہی پھیلاتی ہے، خاندانوں کو غم میں مبتلا کرتی ہے، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے اور غربت و عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگ مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بناتی ہے اور ترقی، جمہوریت، انصاف اور خوشحالی کے امکانات کو کمزور کر دیتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور واشنگٹن میں موجود جنگ کے حامی عناصر دھمکیوں، پابندیوں اور دباؤ کے ذریعے ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مختلف سیاسی نظریات رکھنے کے باوجود دستخط کنندگان ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی واضح اور غیر مشروط مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل ملک کے اندر تعمیری اصلاحات، ترقی پر مبنی اقدامات اور مثبت تبدیلی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اعلامیے میں عوام اور بااثر شخصیات سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ جنگ اور جارحیت کے خلاف اپنی آواز مزید بلند کریں اور کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں ملک کے ساتھ کھڑے ہوں۔
یہ اعلامیہ مختلف سیاسی رجحانات سے تعلق رکھنے والی 353 ایرانی سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ