مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی صبح صوبہ مازندران کے حکام سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے ایران کے خلاف عائد کیے جانے والے بے بنیاد الزامات کو مسترد کیا اور ملکی سلامتی کے اداروں اور قومی کردار کا دفاع کیا۔
انہوں نے امریکی صدر کے حالیہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر 32 ہزار افراد کے قتل کا دعویٰ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔
صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران نے ہلاکتوں کی تفصیلات قومی شناختی کارڈ نمبروں کے ساتھ جاری کر رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک اور عوام کے دفاع کے دوران سلامتی اور مسلح افواج کے دو ہزار سے زائد اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ہنگاموں کے دوران 350 سے زائد مساجد اور 300 اسکولوں کو نذرِ آتش کیا گیا، جو احتجاج نہیں بلکہ دہشت گردی کی کارروائیاں تھیں۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ مخالف قوتیں ملک کو کمزور کرنے کے لیے قابل سائنس دانوں اور ماہر افراد کو نشانہ بناتی ہیں، تاہم قومی اتحاد اور باہمی تعاون کسی بھی طاقت کو ایران کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے زور دیا کہ اتحاد، انصاف کی پاسداری اور مشترکہ قومی اقدار پر اعتماد ہی داخلی چیلنجز اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ