مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران میں جمہوریت سے کوئی حقیقی ہمدردی نہیں بلکہ وہ مختلف ممالک کے وسائل تک رسائی چاہتا ہے، اس لیے ایران کسی بھی قیمت پر سر نہیں جھکائے گا۔
خرم آباد میں لرستان یونیورسٹی میں اساتذہ اور دانشوروں کے ساتھ نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی نظر دوسرے ممالک کے معدنی ذخائر اور قدرتی وسائل پر ہیں اور انہیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جبکہ باشعور اقوام اپنے وسائل مفت میں دینے پر آمادہ نہیں ہوتیں، جس کے نتیجے میں طویل کشمکش جنم لیتی ہے۔
صدر نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی امریکہ کو ایران یا وینزویلا میں جمہوریت کی فکر ہے؟ امریکہ کھلے عام کہتا ہے کہ اسے دوسرے ممالک کا تیل اور معدنیات درکار ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور ان کا بنیادی مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جنگ سے گریز کیا جائے، تاہم اگر ایران کو ذلیل کرنے یا زبردستی اپنا فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ایرانی قوم سر نہیں جھکائے گی۔ ایران کی ثقافت اور تاریخ یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔
صدر نے زور دے کر کہا کہ وہ ایران کی خاطر اپنی جان، زندگی اور نام تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہر ممکن کوشش کریں گے کہ ملک کے زخم گہرے نہ ہوں بلکہ ان کا مداوا کیا جائے۔
آپ کا تبصرہ