مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حماس نے صہیونی حکومت کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی کو مبینہ طور پر ’’سرکاری زمین‘‘ قرار دے کر اس کی رجسٹریشن اور ضبطگی کے منصوبے کی منظوری پر سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
تحریک مزاحمت اسلامی حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی کابینہ کا یہ اقدام باطل اور ایک قابض طاقت کی طرف سے جاری کردہ غیر قانونی فیصلہ ہے، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم زبردستی آبادکاری اور یہودی آبادکاری کے حقائق مسلط کرنے کی کوشش ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حماس نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی قوم اپنی تمام قومی قوتوں اور مزاحمتی گروہوں کے ساتھ مل کر الحاق، یہودی آبادکاری اور جبری بے دخلی کے ہر منصوبے کا مقابلہ جاری رکھے گی اور ان استعماری منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی عوام کا اپنے وطن اور قومی حقوق سے وابستگی کا عزم توسیع پسندانہ پالیسیوں اور قابض قوت کے منصوبوں کے سامنے مضبوط دیوار ثابت ہوگا۔
حماس نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور سیاسی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے قابض حکومت کی مسلسل کارروائیوں اور خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور القدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کریں۔
آپ کا تبصرہ