14 فروری، 2026، 12:52 AM

تہران اور لندن کے تعلقات میں بہتری باہمی احترام اور اعتماد مشروط ہے، ایرانی سفیر

تہران اور لندن کے تعلقات میں بہتری باہمی احترام اور اعتماد مشروط ہے، ایرانی سفیر

برطانیہ میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ایران اور برطانیہ کے پیچیدہ اور چیلنجز سے بھرپور تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے باہمی احترام اور اعتماد ہونا ضروری ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوری ایران کے سفیر برطانیہ سید علی موسوی نے کہا ہے کہ تہران اور لندن کے درمیان تعلقات کی بہتری باہمی احترام، غلط فہمیوں کے خاتمے اور بداعتمادی سے اجتناب سے مشروط ہے۔

لندن میں ایرانی سفارت خانے میں اسلامی انقلاب کی سینتالیسویں سالگرہ کی تقریب ہوئی جس میں برطانوی وزارت خارجہ اور پارلیمنٹ کے نمائندوں، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، تاجروں اور صنعت کاروں، مالیاتی اداروں کے عہدیداروں، اساتذہ، طلباء اور اقتصادی و سائنسی شعبوں کے فعال افراد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ قومی دن دراصل ایرانی عوام کے اس اجتماعی فیصلے کی یاد دہانی ہے جس کے ذریعے انہوں نے حق خود ارادیت، آزادی، خودمختاری، عوامی حکمرانی اور پیشرفت کے حصول کی جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران تقریبا نصف صدی سے مسلسل دباؤ کا سامنا کررہا ہے، جس میں آٹھ سالہ جنگ، سخت اقتصادی پابندیاں، تخریبی کارروائیاں اور دہشت گردی شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود قومی یکجہتی، داخلی صلاحیتوں اور انسانی وسائل کی بدولت نمایاں پیشرفت حاصل کی گئی ہے۔

سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے موسوی نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں ایران کی عالمی درجہ بندی مسلسل بہتر ہوئی ہے، علمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور جدید ٹیکنالوجی و صحت کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سخت پابندیوں اور عالمی معیشت کے دشوار حالات کے باوجود صنعتی پیداوار میں اضافہ، نان آئل برآمدات میں نمو، ٹیکس نظام کی مضبوطی اور معیشت کو متنوع اور مزاحم بنانے کی سمت میں پیش رفت دیکھی جاسکتی ہے۔

سماجی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے سفیر ایران نے کہا کہ طبی سہولیات کی توسیع، ادویات کی پیداوار میں وسیع خودکفالت، قومی رہائشی منصوبوں میں پیشرفت، سماجی خدمات تک بہتر رسائی اور مواصلاتی ڈھانچے کی ترقی نے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ایران کی جامعات میں تقریبا 32 لاکھ طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں 50.2 فیصد خواتین ہیں، جو اعلی تعلیم میں خواتین کی مؤثر شرکت اور صنفی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے سید علی موسوی نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات، اپنے طویل تاریخی مگر چیلنجوں سے بھرپور پس منظر کے باعث دانشمندانہ فیصلے کے متقاضی ہیں۔ باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور دوطرفہ روابط میں کسی بھی قسم کی بداعتمادی سے اجتناب کے ذریعے ان میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے تصریح کی کہ ایران مختلف شعبوں میں برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور ہر قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ گذشتہ سال اسلامی جمہوری ایران کے لیے ایک مشکل سال تھا۔ امریکہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اور اس کے جابرانہ رویے کے باوجود، ایران نے حسن نیت کے اظہار اور مفید باہمی تعامل پر مبنی سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہوئے جوہری معاملے سے متعلق موضوعات پر مذاکرات میں شرکت کی۔ تاہم، جب پانچ ادوار گفتگو منعقد ہوچکے تھے اور چھٹے دور کے انعقاد پر بھی اتفاق ہوگیا تھا، اسی دوران اسرائیلی حکومت نے امریکہ کی حمایت کے ساتھ ایران کے خلاف جارحیت کی، جس کے نتیجے میں جانی اور معاشی نقصانات ہوئے۔ اس کے باوجود ایران نے اپنے ذاتی و فطری حقِ دفاع کے تحت اپنا دفاع کیا۔

News ID 1938042

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha