9 فروری، 2026، 7:19 PM

مذاکرات میں افزودہ یورینیم ملک سے نکالنے کا کوئی موضوع زیر بحث نہیں آیا، اسلامی

مذاکرات میں افزودہ یورینیم ملک سے نکالنے کا کوئی موضوع زیر بحث نہیں آیا، اسلامی

ایرانی قومی ادارہ برائے جوہری توانائی نے افزودہ یورنئیم کے ذخائر کو ملک سے باہر لے جانے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران سیف گارڈ فارمولے کے تحت تعاون کے لئے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ادارہ برائے جوہری توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے واضح کیا ہے کہ افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا معاملہ نہ تو ایجنڈے میں شامل رہا ہے اور نہ ہی مذاکرات میں اس پر کوئی بحث ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسلامی نے کہا کہ یورینیم کی ممکنہ منتقلی سے متعلق جو باتیں گردش کر رہی ہیں وہ مختلف حلقوں اور دباؤ ڈالنے والے عناصر کے پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ ایسا کوئی موضوع سرے سے مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں رہا، اور اگر کسی مرحلے پر کسی ملک نے کوئی تجویز دی بھی ہو تو وہ محض اپنی رائے کے طور پر پیش کی گئی ہوگی، لیکن مذاکرات میں اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی۔

انہوں نے ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون کے حوالے سے کہا کہ ایجنسی پر ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے جس سے وہ پہلو تہی نہیں کرسکتی، اور وہ ذمہ داری زیر نگرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملے کے معاملے میں مؤقف اختیار کرنا ہے۔ اگر تنصیبات ایجنسی کی نگرانی میں ہیں تو ایجنسی اس واقعے پر خاموش نہیں رہ سکتی اور نہ ہی غیر پیشہ ورانہ یا سیاسی طرزعمل اپنا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیف گارڈ فارمولے کے تحت ایران کا تعاون جاری ہے۔ جن مراکز کو نشانہ نہیں بنایا گیا، وہاں نگرانی کا عمل جاری رہا ہے اور قومی سلامتی کونسل کی اجازت سے ایجنسی کے انسپکٹرز نے جنگ کے بعد بھی معائنہ کیا ہے۔

News ID 1937942

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha