مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید احمد خاتمی نے قم میں علماء اور دینی طلاب کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ فسادات دراصل اسلامی نظام کے خلاف ایک منظم مگر ناکام بغاوت تھیں، جن میں مذہبی مراکز، عوامی املاک اور دینی شعائر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق دشمنوں نے قرآن اور مساجد تک کو نذرِ آتش کیا اور عام شہریوں سمیت بچوں کو بھی شہید کیا، تاہم ملت ایران نے بصیرت، وحدت اور قیادت کی اطاعت کے ذریعے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ فسادات کے لیڈرز فقہی و قانونی طور پر محارب، باغی اور مفسد فی الارض ہیں اور قوم ان کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کرتی ہے، جبکہ فریب خوردہ افراد کے ساتھ بھی ایسا عدالتی رویہ اختیار کیا جانا چاہیے جو آئندہ کے لیے عبرت بنے۔
آیت اللہ خاتمی نے دشمن کے اصل ہدف کو رہبر معظم انقلاب قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات کو غنڈہ گردی اور امریکی قوم کے لیے باعث شرمندگی قرار دیا اور کہا کہ رہبر انقلاب محض سیاسی قائد نہیں بلکہ ملت کے دینی و معنوی رہنما ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ قوم کو ہر وقت آمادہ رہنا چاہیے، رہبری کی اطاعت اور قومی وحدت کو مضبوط رکھنا ہوگا، اور سوشل میڈیا پر تفرقہ پھیلانے والوں سے ہوشیار رہنا ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ