25 جنوری، 2026، 4:33 PM

مشرق وسطی میں وسیع تباہی کے پیش نظر ٹرمپ ایران پر حملے سے پیچھے ہٹ گئے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

مشرق وسطی میں وسیع تباہی کے پیش نظر ٹرمپ ایران پر حملے سے پیچھے ہٹ گئے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے سخت اور فیصلہ کن ردعمل کے پیغامات اور امریکی فوجی کمزوریوں کے باعث ٹرمپ ایران پر حملے کے ارادے سے پیچھے ہٹ گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی میڈیا نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کے لیے امریکی افواج کی تیاری کے باوجود بدھ کی رات آخری لمحات میں اس منصوبے کو اچانک منسوخ کردیا۔

امریکی ویب سائٹ اکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے شدید بین الاقوامی دباؤ، علاقائی اتحادیوں کی وارننگز اور ایران کی جانب سے پہنچائے گئے واضح پیغامات شامل تھے۔

بدھ سے قبل بین الاقوامی دباؤ کے باعث امریکی قومی سلامتی کی ٹیم نے ایران کے خلاف مختلف ممکنہ آپشنز پر غور کیا، جن میں سائبر حملے سے لے کر محدود فوجی کارروائیاں شامل تھیں۔ اسی تناظر میں پینٹاگون نے خطے میں امریکی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا، جس میں محدود میزائل حملوں اور بحری سطح پر روک تھام کی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک بڑی رکاوٹ پیچیدہ عسکری اور لاجسٹک حسابات تھے، جن سے یہ واضح ہوا کہ خلیج فارس کے خطے میں طویل اور مؤثر فوجی آپریشن کے لیے درکار سازوسامان اس وقت دستیاب نہیں، اور اس کی تعیناتی کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

ایکسيوس کے مطابق اسرائیل اور سعودی عرب جیسے قریبی اتحادیوں کی وارننگز نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان ممالک نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ ایران پر امریکی حملہ یمن سے لبنان تک مزاحمتی گروہوں کے ردعمل کو بھڑکا سکتا ہے اور ان کے مفادات کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے، جبکہ وہ خود ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سب سے اہم اور فیصلہ کن عنصر ایران کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے پہنچائے گئے پیغامات تھے، جن میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی بھی حملے کا جواب سخت، فوری اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا، جس کے بعد ٹرمپ نے حتمی فوجی حکم جاری کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کئی ہفتوں سے جاری ہائی الرٹ کی صورتحال بھی اس پسپائی کی تصدیق کرتی ہے۔ صہیونی میڈیا کے مطابق یہ ہنگامی کیفیت آئندہ چند ہفتوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو اس سے قبل یہ بھی رپورٹ کرچکا ہے کہ پینٹاگون مشرق وسطی میں ایران کے ممکنہ ردعمل کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی امریکی جنگی صلاحیت پر شدید تشویش کا شکار ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ ٹرمپ کو اب ایک پیچیدہ مسئلہ درپیش ہے، کیونکہ وہ ایران کو ایک فیصلہ کن ضرب لگانے کے تصور میں تھے، مگر انہیں ایسی وارننگز موصول ہوئیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام ایک طویل، سخت اور حتی کہ مکمل جنگ میں بدل سکتا ہے۔

ان اعترافات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران پر معمولی حملہ بھی خونریز اور فیصلہ کن جواب کو جنم دے گا۔ جون 2025 کی بارہ روزہ جنگ کے بعد ایران کی دفاعی قوت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوچکی ہے، اور ایران کے ساتھ جنگ مغربی ایشیا میں جہنم کے دروازے کھولنے کے مترادف ہوگی۔

جب اسرائیل اور سعودی عرب جیسے اتحادی خود خبردار کر رہے ہوں تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ بارہ روزہ جنگ کے تجربے کے بعد اپنی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ صہیونی اعترافات کے مطابق وہ مختصر وقت میں ایرانی حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، جبکہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک بھی امریکی سکیورٹی ضمانتوں کی محدود حیثیت کو سمجھ چکے ہیں۔

آخرکار حقیقت یہی ہے کہ ایران پر کسی بھی فوجی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ایران خاموش تماشائی نہیں بنے گا بلکہ دشمنوں پر ابابیل کے لشکر کی مانند ٹوٹ پڑے گا، اور اگر کوئی ایران پر حملے کا انتخاب کرتا ہے تو اسے اس کے نتائج بھی قبول کرنا ہوں گے، جہاں نہ اقوام متحدہ کے اجلاس کوئی فائدہ دیں گے اور نہ علامتی بیانات۔

News ID 1937880

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha