مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے صوبہ تہران کے ائمہ جماعات کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران امریکی صدر کی بار بار کی دھمکیوں پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا امریکی صدر کھلم کھلا آشوب پسند عناصر کو امید دلاتا ہے اور حال ہی میں رہبر معظم انقلاب کو دھمکی دیا ہے۔ اگرچہ وہ جواب دینے کے لائق نہیں، لیکن اسے یہ جان لینا چاہیے کہ آیت اللہ خامنہ ای، بحیثیت ایک فقیہ اور امت کے رہبر، ہر وہ شخص جو ان پر حملے کی نیت رکھے، شرعاً «محارب» ہے۔ ہم اس بارے میں پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور اس کے فقہی دلائل بھی بیان کر چکے ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ تمام علماء میدان میں آئیں اور قیادت کی حمایت کریں؛ کیونکہ ہم اسے محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک شرعی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے مزید فرمایا جب میں دیکھتا ہوں کہ فتنوں کے دوران بعض لوگ خاموش رہتے ہیں یا بہت دیر سے بولتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ حالات کس طرف جاتے ہیں، تو مجھے تعجب ہوتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حق و باطل بالکل واضح ہو۔
انہوں نے زور دے کر کہا ہمیں ملک میں اتحاد و انسجام کی ضرورت ہے اور اختلافات نہیں ہونے چاہئیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کچھ لوگ جو چاہیں کریں اور سب خاموش رہیں، یا نگران ادارے اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائیں۔
آخر میں انہوں نے کہا اتحاد کا مطلب عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ رہبر انقلاب نے فرمایا ہے کہ ذمہ دار افراد کو دوگنی محنت کرنی چاہیے یعنی عدلیہ مقدمات کے فیصلوں میں، پارلیمنٹ نگرانی میں، اور حکومت عوامی مسائل کے حل میں دن رات ایک کر دے۔
آپ کا تبصرہ