20 جنوری، 2026، 11:20 PM

امریکہ یورپ کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے، ہم نوآبادیاتی نظام قبول نہیں کرتے، فرانسیسی صدر میکرون

امریکہ یورپ کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے، ہم نوآبادیاتی نظام قبول نہیں کرتے، فرانسیسی صدر میکرون

فرانس کے صدر میکرون نے سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش پر کہا کہ دنیا ایک ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں قوانین کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، جبکہ امریکہ یورپ کو مطیع اور فرمانبردار بنانے کے درپے ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ہم ایک ایسی دنیا کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی جا رہی ہے اور توسیع پسندانہ عزائم کے دوبارہ ابھرنے کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کو پامال کیا جا رہا ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ ایک طرف امریکہ کی جانب سے یورپ کو تابع بنانے کی کوششیں ہیں، جبکہ دوسری جانب چین کی جانب سے منڈیوں کو اشیا سے بھر دینے کی حکمتِ عملی پر مبنی مقابلہ ہے۔ ہم طاقتور کی حکمرانی، یعنی نوآبادیاتی نظام، کو قبول نہیں کر سکتے اور یورپ کو کثیرالجہتی نظام کا دفاع کرنا چاہیے۔

ایمانوئل میکرون نے، فلسطین کی سرزمین پر صہیونی قبضے اور مغربی۔عبری محور کی جانب سے استکبار مخالف ممالک کے اندرونی معاملات میں دہائیوں سے جاری مداخلت کا ذکر کیے بغیر، دعویٰ کیا کہ ہم اقوام کی حاکمیت و خودمختاری اور اقوام متحدہ کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں جمہوریت کے بجائے آمرانہ طرز حکومت کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اور عالمی سطح پر تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے اور اپنی حاکمیت کا دفاع کرے۔ صرف نجی سرمایہ کاری کافی نہیں، ہمیں بعض اہم شعبوں میں چین کی جانب سے یورپ میں مزید براہ راست سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یورپ کی پیش رفت سست ہو سکتی ہے، لیکن یہ قابل پیش گوئی ہے اور قانون کی حکمرانی کے تحت ہے۔

News ID 1937788

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha