مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے ثقافتی امور کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل شکاریچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر رہبر معظم انقلاب کی جانب کسی قسم کی دست درازی کی گئی تو جارح قوتوں کو ایسا جواب دیا جائے گا جو پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لے گا۔
تہران میں بین الاقوامی کانگریس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران ٹرمپ کی بیان بازی کو سنجیدہ نہیں لیتا، تاہم کسی بھی عملی اقدام کی صورت میں ردعمل غیر معمولی ہوگا۔
جنرل شکاریچی کا کہنا تھا کہ اگر رہبر معظم انقلاب کی جانب ہاتھ بڑھایا گیا تو محض جوابی کارروائی نہیں ہوگی بلکہ جارحوں کے مفادات کو دنیا کے ہر کونے میں نشانہ بنایا جائے گا اور ان کے لیے کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا۔
ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے
جنرل شکارچی نے واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا اور یہ محض نعرے نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں جن کا عملی مظاہرہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن بخوبی جانتا ہے کہ ایران کی سرزمین کے کسی بھی حصے پر حملے کی صورت میں جواب اتنا سخت ہوگا کہ جارح کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔
مارکیٹس اور تاجر برادری نے دشمن کا منصوبہ ناکام بنا دیا
جنرل شکاریچی نے کہا کہ دشمن کی ایک بڑی حکمت عملی یہ تھی کہ فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر مارکیٹس میں خوف، بے چینی اور انتشار پیدا کیا جائے، تاہم تاجر برادری اور مارکیٹس نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
امریکہ ایران کے خلاف ہر محاذ پر ناکام رہا ہے
جنرل شکاریچی نے کہا کہ ایران کے خلاف دشمنی کے آغاز سے لے کر آج تک امریکہ کو کسی بھی محاذ پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایرانی قوم اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ