مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب اسرائیلی وزیر خارجہ نے دوسالہ غزہ جنگ میں صہیونی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں خبرنگاروں اور صحافیوں پر ہونے والے مظالم کو نظر انداز کرتے ہوئے الجزیرہ کے ایران سے لائیو پروگرام چلانے پر سوال اٹھایا اور کہا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ الجزیرہ تہران سے لائیو پروگرام چلا رہا ہے جبکہ نہ انٹرنیٹ ہے اور نہ بجلی ہے!!! کیا یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ الجزیرہ ایران کے اسلامی نظام کی حمایت کرتا ہے؟
غاصب اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس پوسٹ پر کمنٹس اور رد عمل کی لہر شروع ہو گئی۔ اس پوسٹ کو مختلف صحافیوں نے آڑے ہاتھوں لیا اور سخت تنقید کیا اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایکٹیو مختلف افراد نے اسرائیلی وزیر خارجہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تقریبا سب کی تنقید کا ایک ہی محور تھا اور وہ یہ کہ صہیونی ریاست خود صحافیوں اور خبرنگاروں پر کڑی نگرانی کرتی کرتی ہے اور تمام خبروں کو سینسر کرتی ہے وہ کسی اور ملک کی حالت پر تبصرہ کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
عرب خبرنگار حمزہ عطار نے لکھا کہ سیٹلائٹ نشریات کا انٹرنیٹ اور بجلی سے کیا تعلق ہے۔ بعض دیگر افراد نے غزہ میں شہید کئے جانے والے انٹرنیشنل میڈیا پرسنز کا ذکر کر کے صہیونی وزیر کو آئینہ دکھایا۔
آپ کا تبصرہ