مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل گوٹیرس کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مشرق وسطی کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران عراقچی نے کہا کہ ایران میں ہونے والے پرامن مظاہروں کو امریکہ اور صہیونی حکومت نے مداخلت کرکے پرتشدد بنایا اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے نہتے لوگوں کو نشانہ بنایا تاکہ فوجی مداخلت کا موقع ملے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں مداخلت غیر قانونی ہے۔ فسادات میں ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گروں نے نہتے عوام کے بے دردی سے شہید کیا اور بعض کو زندہ جلادیا جبکہ سرکاری اور عوامی املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ اقوام متحدہ ایران میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران میں درپیش حالات کے بہانے اجلاس طلب کیا۔ ایران کو درپیش مشکلات کی اصل وجہ امریکی پابندیاں ہیں۔ ایران میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی ذمہ داری امریکہ اور صہیونی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس بلاکر امریکہ اپنے جرائم پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔
گفتگو کے دوران اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے دھمکی اور دباؤ کی پالیسی کو ممنوع قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے منشور کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ