7 جنوری، 2026، 2:39 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

خلیج فارس تعاون کونسل میں دراڑیں نمایاں؛ جنوبی یمن سعودی عرب اور امارات کے لئے شطرنج کی بساط بن گیا

خلیج فارس تعاون کونسل میں دراڑیں نمایاں؛ جنوبی یمن سعودی عرب اور امارات کے لئے شطرنج کی بساط بن گیا

یمن سے اماراتی افواج کا ہنگامی انخلا اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جزیرۂ عرب میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور خلیجی ممالک کے درمیان اثر و رسوخ کی نئی صف بندی سامنے آرہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: یمن کی جنگ میں متحدہ عرب امارات کی مداخلت 2015 میں عرب اتحاد کے تحت شروع ہوئی تھی جوکہ اب نہ صرف ناکامی سے دوچار نظر آتی ہے بلکہ خلیج فارس تعاون کونسل کے اندر گہرے اختلافات کو بھی بے نقاب کر رہی ہے۔ جنوبی یمن سے اماراتی افواج کا ہنگامی انخلا دراصل جزیرۂ عرب کے سکیورٹی نظام کی زبردستی اور ازسرنو تشکیل کا مظہر ہے۔

یمن میں عرب امارات کی مداخلت عرب اتحاد کے اعلان کردہ اہداف سے واضح انحراف پر مبنی رہی۔ ابوظہبی نے سعودی عرب کی اتحادی فوج کو مستحکم کرنے کے بجائے منظم انداز میں اسے کمزور کیا اور اس کی جگہ مسلح گروہوں اور ملیشیاؤں کو فروغ دیا۔ جنوبی یمن میں جنوبی عبوری کونسل کو اسلحہ اور سیاسی پشت پناہی فراہم کرکے امارات نے اس خطے میں بندرگاہوں اور اہم جزیروں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، تاکہ باب المندب میں اپنی بالادستی قائم کرسکے۔

یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی استحکام کے لیے نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچوں کی دانستہ کمزوری اور علیحدگی پسند منصوبوں کو آسان بنانے کے لیے اپنائی گئی۔ یہ پالیسی گزشتہ ایک دہائی کے دوران امارات کی جارحانہ خارجہ حکمت عملی کا تسلسل تھی، جس کا مقصد جنوبی یمن کو اپنے اثر و رسوخ کا مرکز بنانا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہی منصوبہ امارات کی کمزوری کا سبب بنتا چلا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور امارات کے درمیان یمن کے معاملے پر بڑھتے ہوئے اختلافات نے خلیج فارس تعاون کونسل کے اندر موجود دراڑ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ریاض کی ابوظہبی کے مقابلے میں عارضی کامیابی

سعودی عرب کی حمایت یافتہ جماعت سے وابستہ فورسز بالآخر ریاض کی عسکری اور سیاسی مدد کے سہارے حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو گئیں اور فی الحال اس علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امارات نے، صہیونی حکومت کے جیوپولیٹیکل مفادات کے مطابق، جنوبی علیحدگی پسند فورسز کی حضرموت اور المہرہ جیسے مشرقی یمن کے اہم صوبوں کی جانب پیش قدمی کی حمایت کی تھی۔

اس تازہ پیش رفت کے صرف چند گھنٹوں بعد سعودی عرب نے پہلے صنعاء میں قائم یمنی حکومت سے مذاکرات کیے اور شمالی فریق سے مفاہمت کے بعد کئی مراحل میں بندرگاہ المکلا میں جنوبی عبوری کونسل کی فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس کشیدگی کی انتہا اس وقت دیکھی گئی جب سعودی عرب نے یمن میں اماراتی فوجی مشن کے خاتمے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی، جس کے بعد امارات کی جانب سے کم از کم ظاہری طور پر ریاض کے سامنے پسپائی اختیار کی گئی۔

اب بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا محمد بن سلمان اور محمد بن زاید کے درمیان مسابقت ایک بار پھر کھلی محاذ آرائی میں داخل ہورہی ہے یا خلیج فارس تعاون کونسل کے یہ دونوں اہم رکن اس تناؤ کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

یمن میں امارات کی فوجی اور لاجسٹک سرگرمیوں پر سعودی عرب کا ردعمل نہایت سخت، فیصلہ کن اور عسکری نوعیت کا رہا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی ٹیموں کے مشن کے خاتمے کے اعلان اور سیاسی سطح پر تیز رفتار تبدیلیوں، جن میں رشاد العلیمی کی جانب سے مشترکہ دفاعی معاہدے کی منسوخی بھی شامل ہے، کے بعد ریاض کی قیادت میں عرب اتحاد نے براہ راست فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔

عرب اتحاد نے اعلان کیا کہ امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے یمن کی بندرگاہ المکلا منتقل کیے گئے فوجی سازوسامان اور گاڑیوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جو سابق اتحادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلاف اور گہرے تناؤ کی واضح علامت ہے۔ اسی دوران سفارتی محاذ پر سعودی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے اور جنوبی سرحدوں پر کسی بھی خطرے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

ریاض نے امارات پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کو مشرقی یمن کے صوبوں خصوصا حضرموت اور المہرہ میں فوجی کارروائیوں کے لیے اکسا رہا ہے۔ یہ الزام سعودی عرب کی اس گہری تشویش کو ظاہر کرتا ہے کہ امارات سرحدی اور اسٹریٹجک علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر جنوبی یمن میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، اگرچہ ابوظبی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

جزیرۂ عرب میں طاقت کے توازن میں تبدیلی

حالیہ دنوں میں جب متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنے مشن کے خاتمے کا اعلان کیا تو بظاہر یہ فیصلہ بندرگاہ المکلا میں اسلحہ خانون پر بمباری کا براہ راست نتیجہ دکھائی دیتا ہے، لیکن تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیش رفت دراصل جزیرۂ عرب میں طاقت کے بنیادی توازن میں تبدیلی کی علامت ہے۔ علاقائی سلامتی کے نظام کے تصور کی روشنی میں دیکھا جائے تو ابوظہبی کا یہ قدم محض ایک عسکری فیصلہ نہیں بلکہ فوجی دباؤ کے تحت ایک ناگزیر ردعمل تھا۔ حضرموت اور المہرہ میں امارات کے بالواسطہ اثر و رسوخ میں اضافے نے طاقت کا ایسا توازن بگاڑا جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کے لیے سنجیدہ خطرہ سمجھا۔ ریاض کے سخت ردعمل نے واضح کر دیا کہ امارات کے لیے علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی قیمت اس کے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہوچکی تھی۔

اس تناظر میں امارات کی یہ پسپائی دراصل ایک ایسا قدم تھی جس کا مقصد محدود مقابلے کو بڑی علاقائی دشمنی میں بدلنے سے بچانا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں جنوبی عبوری کونسل اچانک حمایت اور تحفظ سے محروم ہوگئی، جس سے واضح ہوگیا کہ خلیج فارس کی سلامتی کے نظام میں وہ منصوبے جو طاقتور ملک کے مفادات کے خلاف ہوں، زیادہ دیر نہیں چلتے اور آخرکار یا تو بدلنا پڑتے ہیں یا پسپا ہونا ناگزیر ہوجاتا ہے۔

میدان جنگ کی تازہ صورتحال

میدان جنگ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، حضرموت اور المہرہ میں جھڑپوں کے دوران امارات سے وابستہ فورسز کے 232 اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ اطلاعات سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے سامنے ان کی دفاعی لائنوں کے ٹوٹنے کی واضح علامت ہیں۔ الخشعہ اور سیئون جیسے اہم اڈوں کا ہاتھ سے نکل جانا اور بڑی تعداد میں لاپتہ افراد اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاض کی حکمت عملی میں تبدیلی کے بعد ابوظہبی کا ملیشیا پر مبنی منصوبہ ناکام ہو گیا۔ یہ بھاری انسانی نقصان اماراتی حکمت عملی کا براہ راست نتیجہ تھا، جس کے مطابق یہ سمجھا جاتا تھا کہ صرف پیسے اور اسلحے کے ذریعے یمن کے پیچیدہ سماجی و قبائلی ڈھانچے پر غلبہ حاصل کیا جاسکتا ہے، مگر اب اماراتی فیصلہ ساز حلقے اپنے ہی حمایت یافتہ عناصر کی قربانی کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ بالآخر انہی نقصانات نے امارات کی بڑی پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کیا۔

حاصل سخن

یمن سے اماراتی افواج کے اچانک اور مہنگے انخلا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جزیرۂ عرب کے سکیورٹی نظام میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوا کہ حضرموت میں امارات کے بالواسطہ اثر اور نیابتی جنگ کے ذریعے طاقت بڑھانے کی کوشش نے سعودی عرب کے لیے ایک سنگین سلامتی خطرہ پیدا کیا، جس کی وجہ سے ریاض کو وقتی اتحاد چھوڑ کر سخت موقف اختیار کرنا پڑا۔ سعودی عرب کی عسکری کارروائی اور بندرگاہ المکلا پر بمباری اس بنیادی اصول کی تصدیق کرتی ہے کہ بین الاقوامی نظام کی غیر یقینی فضا میں اتحاد ناپائیدار ہوتے ہیں، اور غالب طاقت اپنی جنوبی سرحدوں پر کسی بھی تبدیلی کو خطرہ سمجھتے ہوئے طاقت کے استعمال سے اسے درست کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

جنوبی عبوری کونسل کا تیزی سے بکھر جانا اور بھاری انسانی نقصانات امارات کے نیابتی جنگی نظریے کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہیں۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ملیشیاؤں پر مبنی ماڈل، جب تک براہ راست ریاستی سرپرستی حاصل نہ ہو، روایتی ریاستوں کے دباؤ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ آخرکار امارات کی پسپائی کوئی سفارتی انتخاب نہیں بلکہ عقلی انتخاب کے اصول کے تحت ایک مجبوری تھی، جہاں باب المندب میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی عسکری قیمت اس کے فوائد سے بڑھ گئی، اور یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ متوسط طاقتوں کی خواہشات، جب مرکزی طاقت کے بنیادی مفادات سے ٹکرا جائیں، تو یا تو محدود یا مکمل ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔

News ID 1937584

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha