مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوری ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے امریکا کی جانب سے وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو اور خاتون اول کے اغوا کو بین الاقوامی قانون کی صریح اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر سعید ایروانی نے کہا کہ امریکا کا وینزویلا پر حملہ اور صدر و خاتون اول کا اغوا اقوام متحدہ کے منشور، بالخصوص آرٹیکل 2(4) اور 2(7)، نیز ریاستی خودمختاری اور سربراہان مملکت کے استثنا سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی کھلی پامالی ہے۔ یہ اقدام ریاستی دہشت گردی اور واضح جارحیت کے زمرے میں آتا ہے، جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ کسی آزاد اور خودمختار رکن ملک کے منتخب صدر کو اغوا کرنا ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول پر براہ راست حملہ ہے اور سلامتی کونسل کی یہ قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری اقدامات کے ذریعے اس غیرقانونی جارحیت کو روکے اور ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرائے۔
انہوں نے وینزویلا کے عوام اور ان کی قانونی حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی جگہ اپنی داخلی قانون سازی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو عالمی برادری کے لیے خطرناک انتباہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا نظام بے معنی ہوجائے گا۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی مسلسل بے عملی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ اسی خاموشی نے امریکا کو جارحانہ اقدامات پر اکسایا ہے۔
ایرانی مندوب کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکا نے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کھلی دھمکیاں دی ہیں، جو اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ منافقانہ طور پر ایرانی عوام کی حمایت کے دعوے کرتا ہے۔
انہوں نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ زمینی حقائق کو من گھڑت بیانیوں سے چھپایا نہیں جاسکتا۔
آپ کا تبصرہ