مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدر الدین الحوثی نے اتوار کو جاری کردہ ایک اہم بیان میں اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے اس اقدام کو افریقہ میں قدم جمانے کی ایک جارحانہ صہیونی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ محض صومالیہ تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔
عبدالملک الحوثی نے اسرائیل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا اعلان بذاتِ خود باطل ہے اور حق و انصاف کے ترازو میں اس کی کوئی قدر نہیں ہے۔ ایک ایسا غاصب وجود جو خود اپنی قانونی حیثیت سے محروم ہے، وہ دوسروں کو خودمختاری کیسے دے سکتا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل صومالی لینڈ میں قدم جما کر خطے کے امن کو داؤ پر لگانا چاہتا ہے، جسے امتِ مسلمہ کو ہر صورت روکنا ہوگا۔
دوسری جانب، صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے پارلیمنٹ کے ہنگامی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیلتن یاہو کے اس فیصلے کو صومالیہ کی تاریخ میں خودمختاری کی بدترین توہین قرار دیا ہے۔ صومالی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اسرائیل کی اس شناخت کو کالعدم اور باطل قرار دیتے ہوئے قرارداد منظور کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ ملکی سالمیت کے خلاف کام کرنے والوں کو قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یمنی قیادت نے صومالی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عہد کیا ہے کہ وہ صومالی لینڈ کو اسرائیلی فوجی اڈے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی کاز کی حمایت میں ناکامی ہی اسرائیل کو خطے کے دیگر حصوں میں ایسی مہم جوئیوں کا حوصلہ دیتی ہے۔
یاد رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک اقوامِ متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا، تاہم نتن یاہو نے جمعہ کو اچانک اسے ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کر کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے جس پر افریقی یونین اور عرب لیگ سمیت عالمی سطح پر شدید احتجاج جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ