مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی فوج نے بحریہ کی دفاعی صلاحیت اور سمندری سرگرمیاں بڑھانے کے لیے نیا فلوٹنگ بیس "کردستان" باضابطہ طور پر بحریہ میں شامل کردیا ہے، جبکہ حادثے کے بعد ڈوب جانے والا تباہ کن جہاز "سہند" مکمل مرمت کے بعد دوبارہ رونما کیا گیا۔
تقریب کی صدارت ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے کی۔ اس موقع پر تیز رفتار میزائل بردار کشتیاں، کثیر المقاصد ڈرونز، خودکار آبدوزیں، اور ساحلی و بحری الیکٹرانک وارفیئر، میزائل اور انٹیلیجنس سسٹمز بھی نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔
تقریب میں سستان و بلوچستان، ہرمزگان اور کردستان کے اعلیٰ صوبائی حکام، بحریہ کے افسران اور نیوی کے شہید اہلکاروں کے لواحقین بھی شریک تھے۔ شہدا کے خاندانوں کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔
نیا فلوٹنگ بیس کردستان سمندر میں ایک پورٹ-سٹی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا اور بحری و غیر بحری یونٹس کو وسیع لاجسٹک اور عملی معاونت فراہم کرے گا۔ حکام کے مطابق ان نئے اثاثوں کی شمولیت کا مقصد بحری جنگی تیاریوں میں اضافہ، جدید خطرات کے مقابلے کے لیے ہتھیاروں کے منصوبوں کی توسیع اور بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی اسٹریٹجک رسائی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ