مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 22 افراد شہید اور 80 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ گنجان آباد علاقے ریمل میں پہلے حملے میں کار کو نشانہ بنایا گیا، جس میں آگ لگی اور فوری طور پر واضح ہوگیا کہ کار میں سوار 5 افراد شہید ہوگئے ہیں یا ان میں راہ گیر بھی شامل تھے تاہم دیگر افراد نے آگ بجھانے اور متاثرین کو بچانے کی کوششیں شروع کردی،
محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ غاصب اسرائیلی فضائیہ نے کار پر حملے کے تھوڑی دیر بعد وسطی غزہ کے دیر البلا اور نصیرت کیمپ میں دو گھروں پر الگ الگ حملے کیے جہاں 10 افراد شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں مغربی غزہ سٹی میں ایک گھر پر اسرائیلی فورسز نے بمباری کی اور 5 فلسطینی شہید اور دیگر زخمی ہوگئے جبکہ ہفتے کو اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔
حماس نے واضح کیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے۔
حماس نے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ کارروائیاں معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ثالثوں اور امریکا پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حوالے سے بات کرے اور جنگ بندی بحال رکھے۔
آپ کا تبصرہ