مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور افغانستان کے اعلی حکام نے ٹیلیفونک رابطہ کرکے باہمی تعلقات اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
گفتگو کے دوران طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ کابل پاکستان کے ساتھ اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
طالبان وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور استنبول میں افغانستان و پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقچی نے گفتگو میں زور دیا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔ تہران اس عمل میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
امیر خان متقی نے بتایا کہ افغان وفد نے استنبول مذاکرات میں مکمل اختیار، نیک نیتی اور باہمی افہام و تفہیم کے جذبے کے ساتھ شرکت کی لیکن کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔
اس سے قبل اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات پر بات چیت کی گئی۔
عراقچی نے ایران اور پاکستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے مؤثر ممالک کی مدد سے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل بات چیت ضروری ہے تاکہ اختلافات کم کیے جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے بھی عراقچی کو حالیہ مذاکرات اور افغانستان و پاکستان کے درمیان تازہ صورتحال سے آگاہ کیا، اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ