مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کے روز تبریز میں منعقدہ "اقتصادی سفارت کاری" کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید عباس عراقچی نے کہا کہ تبریز کو ایک بین الاقوامی شہر کے طور پر اُجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ تعمیری اور منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ دوسرے فریق بھی باعزت اور برابری کی بنیاد پر گفتگو کے لیے آمادہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو مذاکرات سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا، لیکن مذاکرات اور حکم دینے یا دباؤ ڈالنے میں فرق ہوتا ہے۔ جب بھی فریقِ مخالف برابری کی بنیاد پر، باہمی احترام اور دھونس و دھمکیوں سے پاک مذاکرات کے لیے تیار ہوگا، ایران بھی تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ایران میں مذاکرات اور سفارت کاری کا پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوا، لیکن مذاکرات صرف اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب وہ باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور دباؤ و دھمکیوں سے آزاد ہوں۔"
وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ جب بھی دوسرا فریق منصفانہ اور باعزت مکالمے کے لیے آمادہ ہوگا، ایران بھی تعمیری مذاکرات کے لیے قدم بڑھانے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ اور نجی شعبے کو مل کر کوشش کرنی چاہیے تاکہ تبریز کو بین الاقوامی سطح پر متعارف اور مستحکم کیا جا سکے۔
عراقچی نے زور دیا کہ تبریز کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بین الاقوامی تقریبات، علاقائی نمائشوں اور مشترکہ اقتصادی پروگراموں کا انعقاد ناگزیر ہے۔
وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ سرحدی صوبوں کی پوشیدہ اقتصادی صلاحیتوں سے ابھی تک مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھایا گیا، جب کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں "اقتصادی سفارت کاری" کے امکانات کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
یران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حکومتِ ایران اور رہبرِ انقلاب کی ترجیح صوبائی سطح پر اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے، تاکہ سرحدی صوبوں کی صلاحیتوں کو علاقائی تعاون کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم اور صدرِ مملکت دونوں نے صوبائی سفارت کاری کو مضبوط کرنے پر خصوصی زور دیا ہے، اور یہ پالیسی نجی شعبے کی جانب سے بھی بھرپور پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ صوبائی سفارت کاری کا مقصد سرحدی علاقوں کے وسائل اور جغرافیائی محلِ وقوع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اگلا "صوبائی سفارت کاری کانفرنس" شمال مغربی ایران میں منعقد کیا جائے گا، جس میں شمال مغربی صوبوں کے گورنرز، قفقاز خطے، ترکی، عراق سمیت کئی یورپی اور افریقی ممالک کے سفیر شریک ہوں گے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وزارتِ خارجہ نجی شعبے کی حمایت کی پابند ہے اور جہاں بھی کسی منصوبے میں معاونت یا ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی، وزارتِ خارجہ ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
عراقچی نے زور دیا کہ پابندیوں اور دباؤ کے موجودہ حالات میں، ملکی داخلی صلاحیتوں خصوصاً سرحدی صوبوں کے امکانات کو فعال اور مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ