1 اکتوبر، 2025، 8:12 PM

کیا نتن یاہو نے قطر سے معذرت کی؟ ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

کیا نتن یاہو نے قطر سے معذرت کی؟ ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والی ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے جس میں نتن یاہو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ فون پر گفتگو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک تصویر نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ٹیلیفون پر حملے پر معذرت کی۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ فون تھامے ہوئے ہیں اور نتن یاہو کے ہاتھ میں ایک کاغذ موجود ہے، جسے وہ دیکھتے ہوئے بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم قطر سے معافی مانگتے وقت لکھی ہوئی عبارت پڑھ رہے تھے؟

ابھی تک اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ فون کال معافی کے لیے تھی یا نہیں۔ سوشل میڈیا پر البتہ یہ ایک گرما گرم موضوع بنا ہوا ہے اور دنیا بھر میں اس پر تبصرے جاری ہیں۔

کیا نتن یاہو نے قطر سے معذرت کی؟ ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تصویر پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں لی گئی تھی اور بظاہر اس لمحے کی تصویر ہے جب نتن یاہو قطر کے وزیراعظم سے فون پر بات کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق یہ کال ڈونالڈ ٹرمپ نے نتانیاهو کی ملاقات کے دوران ترتیب دی تھی۔ اسی گفتگو میں نتانیاہو نے دوحہ میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے حکم دینے پر معذرت کی۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ، جو شروع میں یہ دعوی کرتے رہے کہ انہیں اس حملے کی خبر نہیں تھی، بظاہر نتانیاہو کے اس یکطرفہ اقدام پر سخت ناراض ہوگئے۔ انہوں نے فون پر نتانیاہو کو سخت لہجے میں کہا کہ یہ حملہ غیر عقلمندانہ تھا اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے کی نازک سفارتکاری کو غیر مستحکم کرسکتے ہیں۔

کیا نتن یاہو نے قطر سے معذرت کی؟ ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی

قطر نے، جو غزہ میں جنگ بندی مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس حملے کو بزدلانہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ نتانیاہو نے دوحہ پر اس حملے کے بعد کہا کہ اسرائیل اس کارروائی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہے۔

بھارتی اخبار نے مزید لکھا کہ ان واقعات کے بعد ٹرمپ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے، نتانیاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران فون کال کا بندوبست کیا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ اس کال میں نتانیاہو نے بظاہر قطر کے وزیراعظم سے گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو تسلیم کیا اور وعدہ کیا کہ ایسا حملہ دوبارہ نہیں ہوگا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ یہ جملے واقعی نتانیاہو نے خود بولے تھے یا پھر وائٹ ہاؤس کے کسی مشیر نے انہیں ڈکٹیشن دی تھی؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ، جو نتانیاہو کے بڑے اتحادی مانے جاتے ہیں، نے انہیں اس مقام پر لاکھڑا کیا کہ جیسے وہ کاغذ سے لکھے ہوئے الفاظ دہرا رہے ہوں۔

تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نتانیاہو نے سر جھکایا ہوا ہے اور بظاہر کاغذ سے جملے پڑھ رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر کی تیز اور گہری نگاہیں ان پر جمی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے لیے یہ ایک چھوٹا سا مگر طاقتور اشارہ تھا جو ظاہر کرتا تھا کہ ان کا نتانیاہو پر کتنا اثر و رسوخ ہے۔

ایسا منظر شاذونادر ہی عوام کے سامنے دیکھنے کو ملتا ہے۔ تصویر میں ٹرمپ کو دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ فون اپنی ران پر رکھے بیٹھے ہیں اور نتانیاہو جھکے ہوئے انداز میں کاغذ سے پڑھ رہے ہیں۔ یہ منظر بالکل واضح طور پر حاکم اور رعایا کے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔

News ID 1935699

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha