مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: اسرائیلی جنگی طیاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے اعلی مذاکراتی وفد کے اجلاس کو نشانہ بنایا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب واشنگٹن غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ نئے امن منصوبے پر حماس کے جواب کا انتظار کررہا تھا۔
مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ کارروائی نہ صرف جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں پر کاری ضرب ہے بلکہ اس نے اس حقیقت کو بھی عیاں کر دیا ہے کہ مشرق وسطی میں کوئی ملک محفوظ نہیں اگرچہ وہ واشنگٹن کا قریبی اتحادی ہی کیوں نہ ہو۔ قطر، 7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کے حملوں کا نشانہ بننے والا ساتواں ملک ہے۔
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے صہیونی حملے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے کی جانب سے جواب ضرور آئے گا اور اس واقعے کے اثرات صرف قطر تک محدود نہیں رہیں گے۔
اس صورتحال کے تناظر میں مہر خبررساں ایجنسی نے سات علاقائی ماہرین اور تجزیہ کاروں سے گفتگو کی۔ ماہرین کے مطابق خطے کے عرب ممالک پر امریکی اثر ورسوخ کی وجہ سے صہیونی حکومت کے خلاف مؤثر عملی اقدام بہت بعید ہے۔
قطر کی طرف سے عملی جواب کی کوئی توقع نہیں
ایران میں جنبش نجباء عراق کے نمائندے سید عباس موسوی نے کہا کہ امریکہ کی بالادستی کے سبب قطر سے کسی عملی ردعمل کی توقع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قطر کی طرف سے جاری کیے گئے بیانات محض سیاسی نوعیت کے ہیں تاکہ اپنی ساکھ کو بچایا جاسکے۔ ان کا مقصد صرف دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، ہم طاقتور ہیں اور جواب دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ایک ایسا ملک، جو مشرق وسطی میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید کی میزبانی کرتا ہے اور اسرائیل کو ایک عسکری بازو سمجھتا ہے، وہ کیسے اسرائیل کے خلاف کوئی عملی اور عسکری ردعمل دے سکتا ہے؟
قطر کا ردعمل صرف بیانات تک محدود
احمد الشامی، یمنی چینل المسیرہ کے صحافی اور تجزیہ کار نے کہا کہ بدقسمتی سے قطر کی حکومت مکمل طور پر امریکہ کے زیر اثر ہے اور اس کا سکیورٹی و دفاعی نظام واشنگٹن کے کنٹرول میں ہے۔ اسی لیے ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ قطر اسرائیلی جارحیت پر کوئی ٹھوس ردعمل دے۔
ان کے مطابق قطر کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کو اپنے ملک سے ختم کرنے کا عمل شروع کرے، ملک کو آزادی و خودمختاری کی طرف لے جائے۔ بصورت دیگر وہ اسی ہاتھ سے مار کھائے گا جس پر حفاظت کے لیے انحصار کررہا ہے چنانچہ گزشتہ دنوں اسرائیل نے امریکی حمایت اور منظوری کے ساتھ دوحہ پر حملہ کیا۔
اسلحہ عربوں کے ہاتھ میں، اختیار امریکہ کے پاس
بین الاقوامی قانون کے ماہر محمد مشیک نے قطر کے ممکنہ ردعمل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر ایک امیر ملک ہے، لیکن عسکری طاقت کے لحاظ سے اس کی صلاحیتیں اسرائیل کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ اسی لیے یہ بعید ہے کہ قطر یکطرفہ طور پر کوئی فوجی کارروائی کرے۔ اپنی حفاظت اور وسیع بین الاقوامی دباؤ قائم کرنے کے لیے قطر کو خاص طور پر علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت کرنی پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ قطر کی جانب سے عسکری ردعمل کی کئی وجوہات کی بنیاد پر تردید کی جاسکتی ہے:
1. خلیج فارس کے ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے ہیں۔
2. ان ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور اسرائیلی طیارے ان کے اوپر سے پرواز کرتے ہیں۔
3. اسرائیلی حملے نے یہ حقیقت آشکار کی کہ عرب ممالک کے پاس موجود مغربی ہتھیار خاص طور پر فضائی دفاعی نظام اور جنگی طیارے امریکہ کی اجازت کے بغیر قابلِ استعمال نہیں ہیں۔
4. غزہ میں جاری نسل کشی کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے حالیہ عرصے میں کئی عرب ممالک پر حملے کیے لیکن عرب ممالک خاموش رہے۔
5. ہر ملک کے اپنے مفادات ہیں اور اگر اس پر امریکی اثر و نفوذ کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ طے ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شدید فرق کے باعث عرب ممالک عسکری اقدام کی جرات نہیں کریں گے۔
محمد مشیک کے مطابق قطر شاید قانونی اور سیاسی راستہ اپنائے، مثلاً علاقائی ممالک کی حمایت حاصل کرکے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کی کوشش کرے اگرچہ امریکی ویٹو اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے باوجود قطر پر حملہ دراصل خلیجی ممالک کی عزت و وقار پر حملہ ہے۔ اگر اس کے خلاف کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا گیا چاہے عسکری ہو یا سیاسی تو مستقبل میں اس جارحیت کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور بعید نہیں کہ وہ دیگر ممالک کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنائے۔
امریکی دباؤ کے سامنے قطر بے بس
رادیو النور کی صحافی اور المیادین کی تجزیہ کار بثینہ علیق نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اسرائیلی حملے کے جواب میں قطر اکیلا نہ ہو بلکہ عرب حکومتیں اور ترکیہ اور اسلامی جمہوریہ ایران جیسے علاقائی ممالک کا بھی ردعمل سامنے آئے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خطہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ تاہم اس بات کا امکان کم ہے، کیونکہ ہمیں قطر، خلیج فارس تعاون کونسل اور دیگر عرب ممالک پر امریکی دباؤ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دباؤ کسی بھی ردعمل کو روک سکتا ہے یا اسے بے اثر بناسکتا ہے۔
قطر کا ممکنہ کثیر الجہتی جواب
عراقی ماہر بین الاقوامی امور کیان الاسدی نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ کسی بھی ممکنہ ردعمل کو صرف قطر تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ خلیج فارس تعاون کونسل کے منشور کے تحت غور کیا جائے گا، جو کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں باہمی یکجہتی پر زور دیتا ہے۔ تاہم سیاسی حقیقت یہ ہے کہ چونکہ ان ممالک کے فیصلے امریکی سکیورٹی چھتری پر منحصر ہیں، اس لیے عسکری آپشن مکمل طور پر خارج از امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے پاس اہم اور مؤثر حربے موجود ہیں جنہیں عملی اقدامات میں بدلا جاسکتا ہے، جیسے صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں رخنہ ڈالنا، علاقائی وعدوں پر نظرثانی یا پھر واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست چینلز استعمال کرکے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا تاکہ انسانی امداد اور بارڈر کراسنگ کے معاملے میں کچھ پیشرفت ہوسکے۔
کیان الاسدی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا دوحہ محض بیانات اور میڈیا پر مبنی دھمکیوں تک محدود رہے گا یا پھر سیاسی میدان میں الفاظ کو عملی شکل دینے کی طرف بڑھے گا۔ آنے والے دن واضح کریں گے کہ قطر اس جارحیت سے نمٹنے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ سب سے اہم اشارہ یہ ہوگا کہ واشنگٹن پر اعتماد کس حد تک کمزور ہوتا ہے، کیونکہ خطے کے ممالک میں یہ ادراک جڑ پکڑ رہا ہے کہ امریکی سکیورٹی چھتری سب کے لیے نہیں بلکہ صرف اسرائیل کے لیے مخصوص ہے۔
قطر کی دفاعی ساکھ مجروح ہوگئی
ماہر بین الاقوامی امور محمد بیات کے مطابق، ایران نے 12 روزہ جنگ کے دوران قطر پر پہلا حملہ کیا، جس میں امریکی فوجی اڈہ العدید نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد منگل کو اسرائیل نے دوبارہ قطر پر حملہ کیا، جس میں حماس کے رہنما دوحہ میں نشانہ بنے۔ اس صورتحال میں قطر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی حاکمیت کی پامالی ہوگئی ہے اور اسے کسی نہ کسی طریقے سے اپنی ساکھ بحال کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قطر شاید ایک علامتی یا اجتناب ناپذیر جواب دے، لیکن یہ کہ یہ کس شکل میں ہوگا اور آیا یہ خطے کے ممالک کے مشترکہ اقدام کے تحت ہوگا یا نہیں، کئی عوامل پر منحصر ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات اس میں شامل ہوں گے حتی کہ ایران کی شمولیت بھی بعید ہے۔ شاید قطر خود صرف فضائی کارروائی کے ذریعے جنوبی مقبوضہ علاقوں میں کوئی عملی قدم اٹھائے تاکہ اپنا وقار بحال کرسکے۔
قطر اسرائیل کے خلاف عملی ردعمل دینے کے قابل نہیں
عراقی تجزیہ کار علی فضل اللہ نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے قطر کے خلاف کارروائی کرکے سرخ لیکر کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی ضمانتیں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ ایک ماہ قبل واشنگٹن پوسٹ نے کہا تھا کہ ٹرمپ حکومت نے قطریوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ انہیں نشانہ نہیں بنایا جائے گا، لیکن یہ یقین دہانیاں ایک ماہ سے زیادہ نہیں چلیں۔ یہ امریکی فریب کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا قطر پر حملہ امریکی ضمانتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس سے خطے تمام ممالک خوفزدہ ہیں۔ آج عرب امارات، سعودی عرب، مصر اور ترکی بھی خوف کا شکار ہیں۔
فضل اللہ نے قطر کی وزارت خارجہ کے سخت بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عملی ردعمل کا زیادہ امکان نہیں ہے۔ قطر اسرائیل یا امریکہ کے خلاف کوئی خطرہ یا ردعمل ظاہر کرنے کے قابل نہیں ہے۔ امریکی بھی واضح طور پر مطمئن ہیں کہ کوئی ردعمل نہیں ہوگا، جیسا کہ میڈیا میں یہ بیان آیا کہ ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ یہ دوبارہ نہیں ہوگا۔ لہٰذا عملی اقدامات کی توقع نہیں ہے، اگرچہ یہ درست ہے کہ قطر کو خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کسی محاذ کی تشکیل پر غور کرنا چاہیے۔
فضل اللہ کے مطابق خلیج فارس کے خطے میں عدم استحکام کے بعد عرب ممالک کو اپنے تصورات بدلنے ہوں گے۔ یہ حکومتیں صرف سلامتی کو اپنی بقاء اور تسلسل کے لیے بنیاد سمجھتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ردعمل ضروری ہے، لیکن فی الحال ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
آپ کا تبصرہ