مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر لبنان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت پر مبنی بیان سامنے آیا ہے۔ امریکہ کے مشرق وسطی کی نائب ایلچی مورگن اورتگاس نے سعودی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا کہ واشنگٹن بیروت کے ساتھ مل کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ تیار کرنے اور حتی اس پر عمل درآمد میں بھی شریک ہونے کے لیے آمادہ ہے۔
اورتگاس نے ایران اور حزب اللہ کے خلاف الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنان کی عوامی نمائندہ نہیں بلکہ ایران کی نمائندگی کرتی ہے۔
یہ بیانات اس حقیقت کو اور بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکہ لبنان کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہا ہے اور حزب اللہ کے خلاف اپنی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے امریکی دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے ہتھیاروں کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ یہی ہتھیار ہمیں دشمن کے مقابلے میں محفوظ رکھتے ہیں۔ ہم اسرائیل کو کبھی آزاد نہیں چھوڑیں گے کہ وہ ہمارے ملک میں دندناتا پھرے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ کا یہ مؤقف دراصل لبنان میں صہیونی مفادات کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔
آپ کا تبصرہ