مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک؛ غزہ کے باسی کئی دہائیوں سے ارادی ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان دنوں جہاں فضائی حملے چند لمحوں میں زندگیاں چھین لیتے ہیں وہیں بھوک کا ہتھیار علی الاعلان نسلی کشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی مسلط کردہ جنگ اور محاصرے کے باعث پیدا ہونے والے قحط سے 212 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 98 معصوم بچے شامل ہیں۔ یہ قحط کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس پر عمل درآمد کا آغاز اسرائیلی فوج نے جنگ کے ابتدائی دنوں ہی میں کر دیا تھا۔
9 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی وزیرِ جنگ یوآو گالانٹ نے دنیا کے سامنے اپنے مکروہ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’’غزہ کا مکمل محاصرہ ہو گا اور وہاں نہ بجلی، نہ خوراک، نہ ایندھن مہیا ہو گا۔‘‘ اس کے بعد توانائی کے وزیر اسرائیل کاتز نے واضح کیا کہ انسانی امداد بھی دباؤ ڈالنے کا ایک ہتھیار ہے، جبکہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کھلے الفاظ میں کہا۔ ’’نہ اناج، نہ دوائیں، نہ رحم۔‘‘ یہ بیانات آج کے اس قحط کا پیش خیمہ تھے جو 23 لاکھ انسانوں کو خوراک، دواؤں اور ایندھن سے محروم کرنے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
غزہ میں اس قحط سالی کے نتائج خوفناک ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق غزہ کے 4 لاکھ 70 ہزار افراد ’تباہ کن‘ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جسے اجتماعی موت سے پہلے کا آخری مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح صرف گزشتہ دو ماہ میں چار گنا بڑھ گئی ہے۔ جولائی کے مہینے میں ہی 74 افراد بھوک سے موت کا شکار ہو گئے جن میں سے 24 کی عمر پانچ سال سے کم تھی۔ یہ اعداد و شمار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔
بھوک اور قحط کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی نئی نہیں۔ 2000 کی دہائی کے آخر میں اسرائیلی حکام اعتراف کر چکے تھے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے روزانہ کیلوریز کی مقدار کا حساب لگاتے رہے ہیں تاکہ محاصروں میں خوراک کی کمی اتنی رکھی جائے کہ قحط کا منظر نمایاں نہ ہو اور دوسری جانب غزہ کے رہائشیوں کی غذائی ضروریات بھی پوری نہ ہوں۔ اب یہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں بقا کی بنیادی ضرورتیں ہی مکمل طور پر روک دی گئی ہیں۔
اس بھوک اور قحط کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ غزہ کے باسیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنا بھی ہے۔ ایک خفیہ اسرائیلی سرکاری دستاویز میں غزہ کے باسیوں کو مصر کے صحرائے سینا میں منتقل کرنے کی تجویز دی گئی اور واپسی روکنے کے لیے بفر زون بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ محاصرے کی حکمتِ عملی سادہ ہے کہ غزہ کو اس حد تک ناقابلِ رہائش بنا دیا جائے کہ رہائشی خود علاقہ خالی کر دیں۔ اس پالیسی کا واضح مطلب یہی ہے کہ اگر بم کام نہ کر سکیں تو بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔
غزہ کے ہسپتالوں میں اس حکمتِ عملی کا ثبوت بچوں کے قحط زدہ نحیف جسموں سے عیاں ہے۔ امدادی کارکن ایسے نومولود بچوں کا ذکر کرتے ہیں جو اتنے کمزور ہیں کہ رونے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔ مائیں، جو خود بھوک سے نڈھال ہیں ایسے بچوں کو گود میں لیے بیٹھی ہیں جنہیں وہ دودھ بھی نہیں پلا سکتیں۔ شمالی غزہ کے ایک باپ نے اپنے چھ ہفتے کے بیٹے کی موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہم نے اسے ایک ڈبے میں دفنایا کیونکہ میرے بیٹے کا جسد خاکی کفن کے لیے بھی بہت چھوٹا تھا۔‘‘ یہ ایک یا دو بچوں کی نہیں بلکہ 98 بچوں کی کہانی ہے۔
بین الاقوامی انسانی قوانین ایسے اقدامات کو صریحاً جرم قرار دیتے ہیں۔ جنیوا کنونشن کے اضافی پروٹوکول اوّل کی شق 54 میں شہریوں کو بھوکا رکھنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور عالمی فوجداری عدالت کے قوانین میں یہ ایک جنگی جرم ہے۔ قابض طاقت کے طور پر اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ خوراک اور طبی امداد کی ترسیل یقینی بنائے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیلی بیانات اور اقدامات اس ارادے کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہریوں کو بھوک سے مجبور کر کے علاقہ خالی کرایا جائے۔
اقوامِ متحدہ کے نمائندے خبردار کر چکے ہیں کہ یہ محاصرہ نسل کشی کے زمرے میں آسکتا ہے۔ مئی 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جن میں بھوک کو بھی الزامات کا حصہ بنایا گیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے اس صورتِ حال کو ’’انسانی ارادۃً پیدا کردہ اجتماعی بھوک‘‘ قرار دیا۔ یہ کسی خشک سالی یا آسمانی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے جرم کی علامت ہے۔
قحط زندہ نحیف جسموں کی تصاویر اور مناظر نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑدیا ہے۔ روٹی کی قطاروں پر سنائپر فائر اور لاغر بچوں کی ہڈیوں کے ڈھانچے احتجاجی نعروں میں ڈھل چکے ہیں۔ سڈنی سے سان فرانسسکو تک پلے کارڈز پر ’’بھوک جنگی جرم ہے‘‘ تحریر ہے۔ مگر بیشتر مغربی دارالحکومتوں کا ردعمل بیانات تک محدود ہے۔ بیس سے زائد ممالک نے محاصرے کی مذمت کی، لیکن عملی اقدام کا باب خالی ہے۔
کچھ ریاستوں نے الفاظ کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایران کا اسرائیل کے ساتھ عسکری تصادم بھی غزہ کے دفاع سے جڑا ہوا ہے اور ایرانی حکومت اسے غزہ میں مزاحمتی محور کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتی ہے۔ لبنان، یمن، عراق اور شام میں اتحادی گروہوں کے ذریعے دباؤ کو محض سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک بنایا گیا ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں محاصرے کو ’’ناقابلِ یقین سفاکی‘‘ قرار دیا اور فوری امدادی راہداریاں کھولنے کا مطالبہ کیا۔ ایران اور چند دیگر پرعزم ممالک کے سوا کوئی متحد اور مسلسل علاقائی مہم اس محاصرے کو ختم کرنے کے لیے نظر نہیں آتی۔
یہ قحط ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ جرم جاری ہے اور ہر گزرتا دن اسے مزید سنگین بنا رہا ہے۔ قرآنی روایت کہتی ہے کہ مظلوم کی پکار اللہ تک پہنچتی ہے چاہے دنیا اسے سننے سے انکار کر دے۔ آج غزہ کی فریاد ان ہونٹوں سے نکل رہی ہے جو بھوک سے سوکھ چکے ہیں۔ اگر مغربی دنیا 212 اموات اور نصف ملین انسانوں کے موت کے کنارے کھڑے ہونے کے باوجود حرکت میں نہیں آتی تو وہ اپنی اخلاقی اقدار کو جھٹلا دے گی۔
تاریخ یاد رکھے گی کہ یہ بھوک کوئی حادثہ نہیں تھی بلکہ انسان کے ہاتھوں تیار کیا گیا ایک ہتھیار تھی۔ یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ کون اس کے خلاف کھڑا ہوا اور کس نے خاموش رہ کر اسے کامیاب بنایا۔ اسرائیل کی جانب سےبھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر دنیا کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا کہ اس نے غزہ کی اس خاموش چیخ کا کیا جواب دیا۔
تحریر: محمد اکمل خان – اسلام آباد
آپ کا تبصرہ